بلوچستان کے حقوق کیلئے منظم جدوجہد کی ضرورت ہے، لشکری رئیسانی

24

سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے سیاسی قومی تاریخی حقوق کیلئے منظم آواز بن کر معاشرے کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے جدوجہد کریں گے۔

پالیسیاں بنانے والے آئین کو پامال کرکے ہماری سرزمین پر نفرتوں کے دروازے کھول رہے ہیں، سرزمین کے لوگوں کو متحد کرکے قومی حقوق، مفادات کا تحفظ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹر جس کی پامالی ہورہی ہے۔

ان پامالیوں کا راستہ روکنا پڑئیگا۔ سول سوسائٹی منظم ہوکر اپنا کردار ادا کرے، یہ بات انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب کے دورے کے موقع پر سینئر صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ میڈیا کو اظہار رائے کی آزادی نہیں میڈیا کو بھی مختلف مشکلات اور قدغنوں کا سامنا ہے،بلوچستان کی بحرانی کیفیت ہوئے ہمیں قومی، تاریخی حقوق کے حصول کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،

بلوچستان کے لوگوں سے حق رائے دہی چھین کر ایک ہوٹل میں فیصلے کیے جانے سے اس سرزمین کے لوگوں کی بے چینی میں مزید اضافہ ہورہا ہے،عوامی نمائندوں کے نام پر من پسند لوگوں کو فارم 47 کے ذریعے پارلیمنٹ میں بھیجا گیا ہے تاکہ بلوچستان کے وسائل کا سودا کرکے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات، حقوق کے حصول اور وسائل محروم رکھا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو غلط پالیسیوں اور اقدامات سے مسائل میں دھکیل دیا گیا ہے ہمیں قومی اکائی کی بات کرنی چاہئے کیونکہ اس کی قومی حیثیت ہے،لیکن قومی اکائی سے تاریخی حیثیت چھین کر اس کی حیثیت کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش کی گئی،

پارلیمان سے ایسی قانون سازی کراکر بلوچستان کے وسائل اور قومی، تاریخی حقوق کے اختیارات وفاق کو دیئے گئے ہیں،ہماری کوشش ہے کہ اس ماحول کو پرامن اور بہتر بنانے کے لئے سول سوسائٹی سمیت معاشرے کے تمام پڑھے لکھے طبقات کو شامل کرکے مثبت اور پرامن معاشرے کی تشکیل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہاکہ پالیسی کے تحت بلوچستان کو بدامنی، خانہ جنگی اور جرائم پیشہ افراد کے حوالے کیا گیا اور ایسے میں بڑی سیاسی جماعتیں بھی غلط اقدامات پر خاموش ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی بدحالی کے ذمہ دار پالیسی ساز ادارے ہیں،ایسے میں سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی جماعتوں کے رقیب ہیں نہ کہ دشمن ہمیں سیاست میں نظریاتی اور سیاسی اختلافات رکھنے چاہئیں نہ کہ اس کی آڑ میں دشمنیوں کو پروان چڑھائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں