نیتن یاہو کے متنازع بیان کو اپوزیشن رہنماؤں اور عرب جماعتوں نے مسترد کر دیا

20

اسرائیل میں عام انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی کشیدگی شدت اختیار کرگئی، اپوزیشن رہنماؤں اور عرب جماعتوں نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر انتخابی نتائج کو متنازع بنانے اور عرب جماعتوں کی کامیابی کو مشکوک قرار دینے کی کوششوں کا الزام عائد کردیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی عرب جماعتوں نے انتخابات میں کامیابی کے لیے ووٹ خریدے اور بیرونی مداخلت کے ذریعے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔

ان الزامات کی تحقیقات کے لیے اسرائیلی داخلی سیکیورٹی ادارے شن بیت بھی معاملے کا جائزہ لے رہا ہے۔

تاہم قطر نے ان الزامات کو مضحکہ خیز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ نے اسرائیلی سیاست دانوں پر دوحہ کے خلاف گمراہ کن مہم چلانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

حتمی انتخابی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کا اتحاد 53 نشستیں حاصل کرسکا، جبکہ ان کے حریف گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملیں۔ دوسری جانب دو عرب سیاسی اتحادوں نے توقعات کے برعکس مجموعی طور پر 19 نشستیں جیت لیں، جو 120 رکنی کنیسٹ میں ایک اہم پیش رفت اور کنگ میکر کامیابی ہے۔

اس کامیابی کے بعد عرب جماعتیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار کی پوزیشن میں آگئی ہیں، کیونکہ دونوں بڑے سیاسی اتحاد پارلیمان میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں