حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے پہلے سے نافذ دفعہ 144 کے نفاذ کے حکم نامہ میں مزید ترمیم کرتے ہوئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے، جو 30 نومبر 2025 تک مؤثر رہے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، صوبے بھر میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم خواتین اور بچوں کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
محکمہ داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ عوامی مقامات پر نقاب، مفلر، ماسک یا چہرہ ڈھانپنے والے کسی بھی کپڑے کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی، تاکہ کسی بھی شخص یا مشتبہ سرگرمی کی بروقت نشاندہی ممکن بنائی جاسکے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں، سیاہ شیشوں والی گاڑیوں، اور اسلحہ کی نمائش یا استعمال پر بھی سخت پابندی ہوگی۔ اسی طرح پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، ریلیوں جلسوں اور دھرنوں کے انعقاد پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق، ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ داخلہ نے پولیس، لیویز فورس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے، جبکہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو روزانہ کی بنیاد پر عملدرآمد رپورٹ محکمہ داخلہ کو ارسال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ پابندیاں 5 نومبر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں ترمیم کے بعد نافذ کی گئی ہیں، جن کا مقصد صوبے میں سیکیورٹی صورتحال کو مستحکم رکھنا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے پیشگی طور پر بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔









