کم از کم اجرت یا کم از کم انصاف؟

9

سلیم آج صبح سویرے ہی اٹھ گیا تھا۔ وہ غیر معمولی طور پر خوش تھا، کیونکہ آج تنخواہ کا دن تھا۔ ایک ایسے شخص کے لیے جو پورا مہینہ محنت اور مشقت میں گزارتا ہو، تنخواہ کا دن امید کی نئی کرن لے کر آتا ہے۔ سلیم بھی انہی امیدوں کے سہارے بستر سے اٹھا اور دفتر جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اتنے میں اس کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی اور بولی:

’’سنیں، راشن تقریباً ختم ہونے والا ہے، آج تنخواہ ملے تو راشن لیتے آئیے گا۔’‘‘ یہ کہہ کر اس نے راشن کی ایک لمبی فہرست سلیم کے ہاتھ میں تھما دی۔ ساتھ ہی اسے یاد دلایا کہ بجلی اور گیس کے بل بھی آ چکے ہیں، جبکہ گڈو کے اسکول کی فیس بھی جمع کروانی ہے۔ بات ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ سلیم نے دروازہ کھولا تو سامنے مالک مکان کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر مہینے بھر کے انتظار کی جھنجھلاہٹ صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ’’سلیم صاحب، کرایہ کب دیں گے؟‘‘

سلیم نے دھیمی آواز میں جواب دیا ’’آج تنخواہ مل جائے گی، شام تک آپ کا کرایہ ادا کر دوں گا۔‘‘ مالک مکان تو چلا گیا، مگر اس کے الفاظ سلیم کے ذہن میں گونجتے رہے۔ ابھی وہ دروازہ بند ہی کر رہا تھا کہ اس کا بڑا بیٹا سامنے آگیا۔ ’’بابا، یونیورسٹی کی فیس جمع کروانی ہے۔ آخری تاریخ پرسوں ہے۔ آپ نے کہا تھا تنخواہ والے دن یاد دلا دوں۔’‘‘

یہ سنتے ہی سلیم کے چہرے کی مسکراہٹ مزید مدھم پڑ گئی۔ اس نے اپنی پریشانی چھپاتے ہوئے بیٹے کو یقین دلایا کہ فیس ادا ہو جائے گی، مگر وہ جانتا تھا کہ اس مہینے کا حساب پہلے ہی بگڑ چکا ہے۔ دفتر روانہ ہونے سے پہلے اس کی بیوی نے ناشتے کا پوچھا، مگر اس نے انکار کر دیا۔ بھوک شاید اسے نہیں تھی، یا شاید فکر نے بھوک کی جگہ لے لی تھی۔

سلیم ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ اس کی ماہانہ آمدنی حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت کے مطابق تقریباً 40 ہزار روپے تھی۔ راستے بھر وہ ذہنی حساب کتاب کرتا رہا۔
گھر کا کرایہ: 18 ہزار روپے
راشن: 10 ہزار روپے
گڈو کی اسکول فیس: 5 ہزار روپے
بجلی اور گیس کے بل: تقریباً 7 ہزار روپے

یہ تمام اخراجات اس کی پوری تنخواہ کو نگل چکے تھے، جبکہ اس کے بڑے بیٹے کی 30 ہزار روپے یونیورسٹی فیس ابھی ادا ہونا باقی تھی۔ اس کے علاوہ روزانہ دفتر آنے جانے کا خرچ، گھر کی دیگر ضروریات، اچانک بیماری یا کسی ہنگامی صورتحال کے اخراجات بھی اپنی جگہ موجود تھے۔ سلیم راستے بھر یہی سوچتا رہا کہ آخر یہ سب پورا کیسے ہوگا۔

یہ سوال صرف سلیم کے ذہن میں نہیں اٹھتا، بلکہ ہر ماہ اُن لاکھوں محنت کش خاندانوں کو بھی اسی الجھن میں مبتلا کر دیتا ہے جن کی ماہانہ آمدنی حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت تک محدود ہے۔ ہر مہینے انہیں اپنی آمدنی اور اخراجات کا ایسا حساب لگانا پڑتا ہے جس میں ضروریات ہمیشہ وسائل پر بھاری پڑ جاتی ہیں۔ تب یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر وہ کون سا حساب ہے جو سرکاری کاغذوں میں تو درست دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقی زندگی میں آ کر بکھر جاتا ہے؟ آخر کس بنیاد پر یہ طے کیا جاتا ہے کہ ایک خاندان 40 ہزار روپے ماہانہ میں باعزت زندگی گزار سکتا ہے؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ کم از کم اجرت کا مقصد صرف ایک عدد مقرر کرنا نہیں، بلکہ شہریوں کو باوقار زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہوتا ہے۔ اگر اس اجرت کا تعین لوگوں کی حقیقی ضروریات، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بنیادی اخراجات کو نظر انداز کر کے کیا جائے تو یہ محض ایک سرکاری ہندسہ بن کر رہ جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کرایہ، تعلیم، علاج، یوٹیلٹی بل اور روزمرہ زندگی کے دیگر اخراجات کم از کم اجرت لینے والے خاندانوں کی زندگی کا حصہ ہی نہ ہوں۔

جب زمینی حقیقت کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو ریاستی دعووں اور عوامی زندگی کے درمیان موجود تضاد واضح ہو جاتا ہے۔ ایک طرف عام شہری سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ 40 ہزار روپے ماہانہ میں اپنے خاندان کی تمام ضروریات پوری کر لے، جبکہ دوسری طرف انہی فیصلوں کے ذمہ دار افراد اپنی تنخواہوں اور مراعات میں نمایاں اضافے کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

یہ تضاد محض ایک تاثر نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں میں بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال سال 2025 میں سامنے آئی، جب وفاقی حکومت نے سرمایہ داروں کے دباؤ کے باعث عام مزدور کی کم از کم اجرت میں اضافہ نہیں کیا۔ اس فیصلے پر اٹھنے والے سوالات کے جواب میں بعد ازاں وفاقی وزیر خزانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ کم از کم اجرت کا تعین سرمایہ داروں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ دوسری جانب صوبائی حکومتوں نے کم از کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کردی، مگر اسی عرصے میں حکمران طبقے کی اپنی تنخواہوں میں غیر معمولی اضافے دیکھنے میں آئے۔

وفاقی سطح پر وزرا کی تنخواہ 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ 19 ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی۔ وزرائے مملکت اور مشیروں کی تنخواہ بھی 5 لاکھ 19 ہزار روپے تک پہنچ گئی، جبکہ قومی اسمبلی کے ارکان اور سینیٹرز کی تنخواہیں بھی اسی سطح پر مقرر کی گئیں۔ صوبائی سطح پر بھی یہی رجحان برقرار رہا۔

پنجاب اسمبلی میں ایک رکن اسمبلی کی تنخواہ 76 ہزار روپے سے بڑھا کر 4 لاکھ روپے کردی گئی، جو تقریباً 426 فیصد اضافہ ہے۔ صوبائی وزرا کی تنخواہ ایک لاکھ 80 ہزار روپے سے بڑھ کر 9 لاکھ 60 ہزار روپے، اسپیکر کی ایک لاکھ 25 ہزار روپے سے بڑھ کر 9 لاکھ 50 ہزار روپے، ڈپٹی اسپیکر کی ایک لاکھ 20 ہزار روپے سے بڑھ کر 7 لاکھ 75 ہزار روپے اور پارلیمانی سیکریٹری کی تنخواہ 83 ہزار روپے سے بڑھ کر 4 لاکھ 51 ہزار روپے تک جا پہنچی۔

سندھ میں بھی صورتحال مختلف نہ تھی۔ اراکینِ اسمبلی کی تنخواہ اور الاؤنسز تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے سے بڑھ کر 4 لاکھ 30 ہزار روپے تک پہنچ گئے، جبکہ وزیراعلیٰ، وزرا اور دیگر آئینی عہدوں کی مراعات میں اضافے کی تجاویز بھی سامنے آئیں۔ ان اضافوں کے دفاع میں حکومتی ارکان کا مؤقف تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث یہ اضافہ بھی ناکافی ہے اور عوامی نمائندوں کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ بعض ارکان نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ان کی تنخواہیں ججوں اور اعلیٰ بیوروکریسی کے مساوی ہونی چاہئیں۔

اگر لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے عوامی نمائندوں کے لیے بھی مہنگائی ایک حقیقی مسئلہ ہے، تو پھر کم از کم اجرت پر کام کرنے والا فیکٹری مزدور، سیکیورٹی گارڈ، کلرک یا عام ملازم صرف 40 ہزار روپے میں اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات کیسے پوری کر سکتا ہے؟

یہی سوال ہر نئے بجٹ کے موقع پر مزید اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ کم از کم اجرت پر گزارا کرنے والے لاکھوں خاندانوں کی نظریں اس امید پر حکومت کے فیصلوں پر لگی ہوتی ہیں کہ شاید اس بار ان کی آمدنی بھی مہنگائی کے تناسب سے بڑھائی جائے گی۔ مگر مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں وفاقی حکومت نے 37 ہزار روپے کی کم از کم اجرت میں صرف 10 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 40 ہزار 700 روپے مقرر کیا۔ دوسری جانب سندھ اور پنجاب نے کم از کم اجرت 42 ہزار 800 روپے، بلوچستان نے 43 ہزار جبکہ خیبر پختونخوا نے 45 ہزار روپے مقرر کیے۔

بظاہر یہ اضافہ محنت کش طبقے کے لیے ایک مثبت پیش رفت معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے حقیقی اثرات کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اسے اسی عرصے کی معاشی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے۔ 2026 میں عالمی سطح پر جنگوں، معاشی بے یقینی اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ان اضافوں کے اثرات تقریباً بے معنی کر دیے۔ پٹرولیم مصنوعات، اشیائے ضروریہ، علاج، تعلیم اور دیگر بنیادی اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث قوتِ خرید مزید کمزور ہوتی گئی، یوں آمدنی میں معمولی اضافہ بھی بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ کم نہ کر سکا۔

اس صورتحال سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے۔ اگر مہنگائی حکمران طبقے کے لیے تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی جائز وجہ بن سکتی ہے، تو پھر یہی اصول کم از کم اجرت پر زندگی گزارنے والے کروڑوں پاکستانیوں پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟ آٹا، بجلی، گیس، علاج، تعلیم اور کرایہ تو عوامی نمائندوں اور عام شہری، دونوں کے لیے یکساں مہنگے ہوتے ہیں۔

یوں مسئلہ صرف 40 ہزار، 42 ہزار 800 یا 45 ہزار روپے کی کم از کم اجرت کا نہیں، بلکہ ریاستی ترجیحات کا بن جاتا ہے۔ کم از کم اجرت کا مقصد محض ایک سرکاری ہندسہ مقرر کرنا نہیں، بلکہ ایک محنت کش کو باوقار زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔ جب تک اس کا تعین زمینی حقائق اور حقیقی اخراجات کی بنیاد پر نہیں ہوگا، تب تک سرکاری اعلانات اعداد و شمار تو بدل سکتے ہیں، مگر عام آدمی کی زندگی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں