بلوچستان کے مسائل کا حل اتحاد و اتفاق سے ممکن ہے، لشکری رئیسانی

34

سینئر سیاست دان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اس سرزمین کے لوگ حل کریں گے، بلوچ،پشتون ، سیٹلرز، ہزارہ اقوام اور برادریاں ، مذہبی اقلتیں متحد ہوکر یک آواز ہوں،حکومت اور اپوزیشن میں شامل جماعتیں ایک ہی ایجنڈے کے تحت آئی ہیں،سیاسی جماعتوں نے سیاسی کارکنوں کی بجائے ووٹ خریدنے والوں کوپارلیمنٹ میں بھیجا ان کو عام آدمی سے ہمدردی یا دلچسپی نہیں ، ایسے میں شعوری لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی آواز بن کر عظیم جدوجہد کا آغاز اور رابطہ مہم کو آگے لیکر بڑھیں۔

8 اگست کو وکلاکے قتل عام اور لاپتہ افراد کیلئے مگر مچھ کے آنسو بہانے والوں کی آج وفاق اور صوبہ میں حکومت ہے قاتل گرفتار اور لاپتہ افراد بازیاب کرائے جائیں۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کو عوامی رابطہ مہم کے باقاعدہ آغاز پر سبزل روڈ پر واقع نجی ہال میں منعقدہ ایک بہت بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہاکہ عوامی رابطہ مہم کا مقصد یکجہتی ، اتحاد و اتفاق کے ذریعے قومی وطن کو بحرانوں سے نکالنا ہے ، ان بحرانوں میں سیاسی جماعتیں بھی برابر کی شریک ہیں ، جنہوں نے سیاسی کارکنوں کا سیاسی قتل کرکے پارٹی ٹکٹیں فروخت کرکے کاروبار کیا ہے، بلوچستان کی قسمت کا فیصلہ ایک ہوٹل میں کیا جاتا ، 2013کی اسمبلی نے ڈی ایچ اے ایکٹ پاس کیا جس کے نتیجے میں سرزمین کے لوگوں کی زمینیں کسی اور کو الاٹ کی جارہی ہیں ، 2018کی اسمبلی نے 2021میں ہماری آئندہ نسلوں کی بقا ، خوشحالی کے ضامن اور قومی سرمایہ ریکودک کا ایک پراسرار اجلاس میں سودا کیا جس کے نتیجے میں ہم اپنے قومی وسائل سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

2024کی اسمبلی نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پاس کیا اپوزیشن نے بھی اس قانون کا راستہ نہیں روکا اور اس کے بدلے پی ایس ڈی پی پر ہاتھ صاف کیے ، ہمارا تعلق سیاسی عمل سے ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ آئندہ نسلوں کے حقوق کا دفاع کریں ہم قبضہ گیری کے قانون کیخلاف عدالت گئے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے ایک ہوٹل پراجیکٹ کے تحت اس سرزمین پر مسلط سیاسی جماعتیں ہماری آئندہ نسلوں کے وسائل کی لوٹ مار میں شریک ہیں جہاں حکومتیں نیلام ہوں وہاں ملازمتیں بھی فروخت ہوں گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سیاسی ، سماجی ، قومی اور تاریخی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے، گزشتہ روز آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسمبلی تحلیل کرکے از سر نو انتخابات کرائے جائیں حالانکہ ان اپوزیشن جماعتوں کی موجودگی میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ اور عوام دشمن قوانین پاس ہوئے ، جب ہم عدالت گئے تو کچھ سیاسی جماعتوں نے صرف دکھاوئے کیلئے عدالت میں درخواست دائر کی اور بعد میں کیس واپس لے کر کہا کہ اسمبلی میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا جائیگا تین ماہ گزرنے کے بعد بھی یہ بل نہیں آیا انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں آئے روز لاشیں گررہی ہیں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بتائے کہ قاتل کون ہیں، یہاں اس قدر بحران پیدا کیا جارہاہے کہ لوگ امن کی بھیک مانگیں ہم کسی سے اپنی سرزمین کے امن کی بھیک نہیں مانگیں گے امن خود قائم کریں گے، انہوںنے کہا کہ ہمارئے وطن میں سرحدی تجارت کو بند کردیا گیا ہے ریاست ذمہ دار ہے کہ سڑکوں کو سفر کیلئے محفوظ بنائے انہوںنے کہاکہ 8 اگست کو صوبے کے وکلاکا قتل عام کیا گیا بلاول بھٹو آئے اور مگر مچھ کے آنسو بہارہے تھے آج وہ کیوں خاموش ہیں مریم نواز نے بھی لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے سامنے آنسو بہائے آج وفاق میں ان کی حکومت ہے لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک غیر منتخب غیر سیاسی شخص نے کہا کہ ہم صوبوں کو تقسیم کریں گے پاکستان بننے سے پہلے بلوچ اور پشتون اس سرزمین پر آباد ہیں لاہور سے آنے والا شخص کون ہوتا ہے کہ اس سرزمین کو تقسیم کرے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہائبرڈ نظام کی ناکامی چھپانے کیلئے اب صوبوں کی تقسیم کی بات ہورہی ہے کہیں سرداروں پر الزم لگائے جارہے ہیں ، انہوں نے کہاکہ ایسا لگ رہا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت ختم ہونے جارہی ہے اور اسٹیبلشمنٹ اپنے آپ کو بچانے کیلئے دوسروں پر الزامات لگارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ استحصال ، ظلم وناانصافیاں س سرزمین کے لوگوں کے ساتھ ہورہی ہیں، سیاسی جماعتوں کا تعلق عوام سے ختم ہوچکا ہے وہ صرف پی ایس ڈی پی کی لوٹ مار میں مصروف ہیں، آئندہ نسلوں کی عزت، بقااور وقار کا دفاع اور موجودہ بحرانوں کے خاتمہ کیلئے اس سرزمین کے لوگ اپنے اتحاد و یکجہتی کیساتھ خود کریں گے اس کیلئے میں اور میرے ساتھی ہر قربانی دینے کو تیار ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں