32

بلوچستان میں صحافت مشکل ، پابندیوں کی وجہ سے واقعات کو رپورٹ کرنا بھی ناممکن ہو گیا ہے، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس

آزادی صحافت کے عالمی دن پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال بلو چستان میں بھی آزادی صحافت کا عالمی دن منایا گیا۔ اس موقع پربلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے باہراحتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں صحافیوں اور سول سوسائٹی ورکرز نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

۔مظاہرے سے صدر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس منظور احمد رند ، صدر کوئٹہ پریس کلب عرفان سعید ، سنیئر نائب صدر پی ایف یو جے نورالہی بگٹی ، جنرل سیکرٹری بی یو جے شاہ حسین ترین ،سول سوسائٹی آرگنائزیشن کے رہنماء بہرام لہڑی نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں صحافت کو مشکل بنا دیا گیا ہے پابندیوں کی وجہ سے واقعات کو رپورٹ کرنا بھی ناممکن ہو گیا ہے بلوچستان میں صحافی سب سے زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہیں ، مقررین کا کہنا تھا پیکا ایکٹ جیسے قوانین کے ذریعے سچ بولنا ناممکن بنا دیا گیا ہے بدقسمتی سے یہ کام جمہوریت کے دعویدار ان سیاسی جماعتوں نے کیا جو اقتدار میں آنے سے قبل ہمیشہ آزادی صحافت کے دعوے کرتی تھیں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ صحافتی تنظیمیں خود جعلی خبریں اور دس انفارمیشن کا خاتمہ چاہتا ہیں مگر اس کی آڑ میں جو پہلا ایکٹ لایا گیا اس کے ذریعے سچ کو دبا دیا گیا اور سچ بولنا بھی جرم قرار دیا گیا مارشل لا حکومتوں کے مقابلے میں جمہوریت کی دعویدار حکومتوں میں صحافت پر پابندیاں زیادہ ہیں ،جبکہ پیکا ایکٹ کے تحت آزادی صحافت کے گرد شکنجے کو مزید کھس لیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ پہلا ایکٹ کو واپس لیکر پی ایف یو جے سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پیکا ایکٹ پر نظر ثانی کی جائے اور آزادی صحافت پر پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ کوئٹہ میں ٹی وی چینلز کے بیورو آفسز کو بند نہ کیا جائے ،جن ٹی وی چینلز کے دفاتر بند کیئے گئے ہیں ان کو فوری طور پر بحال کر کے وہاں سے نکالے گئیصحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ملازمتوں پر بحال کیاجائے ،صحافیوں کے روزگار کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔

احتجاج کے دوران صحافیوں نے آزادی صحافت سے متعلق بینرز اٹھارکھے تھے۔ مظاہرین نے کویٹہ سمیت ملک بھر خصوصاً بلوچستان میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے آزادی صحافت کے حق میں نعرے بازی کی اور پیکا ایکٹ اور آزادی اظہار رائے پر پابندیوں کے دیگر کالے قوانین کے خلاف بھی نعرے لگائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں