9

شرح سود میں اضافہ، معاشی استحکام یا نئے خدشات کاعندیہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کے غیر متوقع اضافے نے مالیاتی منڈیوں اور صنعتی شعبے میں بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔

بظاہر یہ فیصلہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، عالمی غیر یقینی صورتحال اور توانائی کی بلند قیمتوں کے تناظر میں کیاگیا،ماہرین کے مطابق اس اقدام کے اصل اشارے ابھی تک واضح نہیں ہوسکے۔

مرکزی بینک کے مطابق مہنگائی آئندہ مہینوں میں ہدف سے بلند رہ سکتی ہے،جس کے پیش نظر سخت مانیٹری پالیسی اپناناضروری تھا، لیکن پاکستان جیسے معاشی ڈھانچے میں ایسے بڑے اضافے کو محض تکنیکی قدم نہیں سمجھاجاتا، بلکہ اسے ممکنہ خطرات کی پیشگی وارننگ کے طور پر لیاجاتا ہے،حکومتی مالیاتی پالیسی اور مرکزی بینک کے اقدامات میں تضاد بھی سامنے آیا ہے۔

شرح سودمیں اضافے کے فوراً بعد وزارت خزانہ نے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور اجارہ سکوک کی نیلامی میں تمام بولیاں مستردکردیں،جس سے یہ تاثر ملا کہ حکومت بلند شرح سود پر قرض لینے سے گریزاں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں