بلدیاتی انتخابات میں جمعیت علما اسلام کی کامیابی یقینی ہے، مولانا عبدالواسع

36

امیرِ جمعیت علما اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات میں جمعیت علما اسلام کی کامیابی یقینی ہے، تمام کارکن آج ہی سے اپنی تنظیمی صفوں کو منظم کریں، اپنے اپنے علاقوں میں انتخابی مہم کا آغاز کریں اور اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے دن رات ایک کر دیں، کیونکہ جے یو آئی کے کارکن اپنے نظریے، استقامت اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں، اور وہ جمعیت کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی ہر سازش کے خلاف مزاحمتی پہاڑ بن کر کھڑے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بہت جلد خضدار کی سرزمین جالاوان پر جمعیت علما اسلام ایک عظیم عوامی پاور شو کا انعقاد کرے گی، جہاں تاریخ گواہ بنے گی کہ اس خطے کے تمام خوشنما نعروں کو ہمیشہ جے یو آئی نے شکستِ فاش دی ہے اور عوام نے ہر دور میں اس جماعت پر اپنے اعتماد کی تجدید کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام کی بنیاد کسی وقتی مفاد، ذاتی اقتدار یا سیاسی لالچ پر نہیں بلکہ اس نظریے پر رکھی گئی ہے جس نے امتِ مسلمہ کو ایک لڑی میں پرو رکھا ہے، یہی نظریہ ہماری اصل پہچان، سرمایہ اور مشعلِ راہ ہے۔

اقتدار کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ کوئی اس کا لالچ نہ کرے، اور الحمدللہ جے یو آئی نے ہمیشہ یہ اصول اپنایا ہے کہ نظریہ ہی قوموں کی زندگی کا محور ہوتا ہے۔ جمعیت علما اسلام نے اپنے کارکنوں کو وقتی نعروں اور جذباتی تحریکوں کے پیچھے لگنے کے بجائے استقامت، ثابت قدمی اور وفاداری کا درس دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج جمعیت کا کارکن پہاڑ کی طرح مضبوط اور چٹان کی طرح قائم ہے۔

ہمارے کارکن جانتے ہیں کہ جو قومیں اصولوں پر سمجھوتہ کرتی ہیں وہ وقت کے تھپیڑوں میں بکھر جاتی ہیں، لیکن نظریے پر ڈٹے رہنے والے تاریخ میں امر ہو جاتے ہیں۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ وطنِ عزیز کی محبت ہمارے کارکنوں کی رگ رگ میں بسی ہوئی ہے، ہم نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بالادستی کو اپنا شعار بنایا ہے، وہ آئین جسے ہمارے اسلاف نے دینی تقاضوں کے عین مطابق تشکیل دیا۔

وہ قوم کبھی غلام نہیں بن سکتی جس کے لوگ قانون کی حکمرانی پر ایمان رکھتے ہوں، جمعیت کا کارکن جان دے سکتا ہے مگر آئین کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیتا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علما اسلام سے اس کا مینڈیٹ ایسے چھینا گیا گویا یہ کوئی نوزائیدہ جماعت ہو، حالانکہ یہ جماعت ایک صدی کی جدوجہد، قربانیوں اور عوامی خدمت کی امین ہے۔

اقتدار ان ہاتھوں میں تھما دیا گیا جنہوں نے صوبے کو ترقی کی شاہراہ کے بجائے مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا، عوام کے حصے میں وعدے آئے اور بدانتظامی و نااہلی نے بلوچستان کو بحرانوں میں جکڑ لیا۔ ارسطو نے کہا تھا کہ بدترین حکمرانی وہ ہوتی ہے جہاں نااہل لوگ حکومت کرتے ہیں، اور بدقسمتی سے آج بلوچستان اسی المیے کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پورے یقین سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جمعیت علما اسلام کو اس کا جائز مینڈیٹ واپس دیا جائے اور اقتدار اہل قیادت کے حوالے کیا جائے جو دیانت، بصیرت اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں۔

اگر اقتدار اہل لوگوں کے حوالے کیا گیا تو وہ بلوچستان کو ان ہیجانی کیفیات، بداعتمادی اور بدانتظامی کے گرداب سے نکال کر امن، ترقی اور خوشحالی کی راہوں پر گامزن کریں گے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علما اسلام کا پیغام روزِ روشن کی طرح واضح ہے، ہم اصولوں پر کبھی سودہ نہیں کریں گے، نہ اقتدار کی لالچ میں اپنے نظریے کو بیچیں گے۔ عوام نے ہمارا ساتھ دیا ہے اور کارکن اپنی استقامت پر ڈٹے ہوئے ہیں، ان شااللہ وہ دن دور نہیں جب بلوچستان ایک بار پھر امن، ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں