ہزار گنجی و سریاب میں بدامنی پر جمعیت علمائ اسلام کا اظہارِ تشویش، چوری ڈکیتی کے سدباب کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ

16

جمعیت علماء اسلام ہزار گنجی زون کے رہنماؤں نے ہزار گنجی اور سریاب میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، بڑھتی ہوئی چوری، ڈکیتی، لوٹ مار اور حکومتی رٹ کی کمزوری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا کی بڑی تجارتی منڈی ہزار گنجی میں بدامنی کے باعث کاروباری سرگرمیاں آخری سانسیں لے رہی ہیں۔

جمعیت علماء اسلام ہزار گنجی زون کے یونٹوں کا مشترکہ اجلاس عشرہ مبشرہ یونٹ اخترآباد کے امیر مفتی سمیع الحق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں عشرہ مبشرہ یونٹ اخترآباد کے مولانا محمد اشرف، مفتی محمود یونٹ ہزار گنجی کے حاجی سعداللہ لہڑی، مولانا محمد عالم، مولانا فضل الرحمن، مولانا نصراللہ منصور، غیلان بن سلمہ یونٹ کے سید محمد حیدر آغا (صدر تاجر اتحادبلوچستان) حافظ عبدالباسط، عروہ بن مسعود یونٹ کے مولوی میر احمد، سیدنا بلال یونٹ میاں غنڈی کے عزت اللہ اسیر مولانا غلام رسول قاری عبد العزیز، خالد بن ولید یونٹ کے مولانا محمد عباس، مولانا شاہ نور، سبزی و فروٹ منڈی کے حافظ محمد معصوم سمیت دیگر ذمہ داران اور کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ ہزار گنجی میں دن دہاڑے چوری، ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتیں معمول بنتی جا رہی ہیں، جس کے باعث تاجر، مزدور، ٹرانسپورٹر اور عام شہری شدید خوف و ہراس اور تشویش میں مبتلا ہیں۔ رہنماؤں نے حکومتی رٹ کی کمزوری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کئے گئے تو صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کرے گی۔

رہنماؤں نے ایشیا کی بڑی تجارتی منڈی ہزار گنجی میں امن و امان کی گرتی ہوئی صورتحال، بے روزگاری اور ٹرانسپورٹ کی بندش کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا۔ اجلاس کے شرکاء نے بین الصوبائی شاہراہوں پر امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث ہزاروں مال بردار گاڑیوں کے کھڑے ہونے اور اس کے نتیجے میں تجارت و معیشت کو پہنچنے والے نقصان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہزار گنجی صرف کوئٹہ ہی نہیں بلکہ پورے بلوچستان کی معاشی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے۔ یہاں امن و امان کی خراب صورتحال کے اثرات صرف تاجروں اور شہریوں تک محدود نہیں بلکہ اس سے پورے صوبے کی تجارت اور روزگار متاثر ہو رہا ہے۔اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمعیت علماء اسلام موجودہ صورتحال پر خاموش تماشائی نہیں بنے گی بلکہ اپنی سرپرست ضلعی اور صوبائی جماعت کے ساتھ مشاورت کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

اس سلسلے میں حکام بالا سے بھی ملاقاتیں کی جائیں گی اور ہزار گنجی و سریاب میں امن و امان کی بحالی کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا جائے گا۔ رہنماؤں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ہزار گنجی اور سریاب میں چوری، ڈکیتی اور لوٹ مار کے سدباب، تاجروں اور شہریوں کے تحفظ اور بین الصوبائی شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس کے شرکاء نے آئندہ بھی اس نوعیت کے اجلاس منعقد کرنے اور مشاورت کا دائرہ مزید وسیع کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے سیاسی، تاجر اور عوامی حلقوں کو مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں