جماعت اسلامی کا بلوچستان میں21مقامات پر قومی شاہرائیں بند کرکے احتجاجی مظاہرے

26

پٹرولیم مصنوعات پربھتہ خوری،بدامنی، بدعنوانی،بارڈرز بندش، لاپتہ افراد کی عدم بازیابی،فورسزکے غلط رویے کے خلاف بلوچستان بھرمیں21مقامات پر اہم قومی شاہراہوں پر ٹریفک کی آمدورفت بند رہی۔

مختلف اضلاع میں جماعت اسلامی کے شرکاء نے قومی شاہراہ کوئٹہ کراچی این 25مستونگ، قلات، خضدار، وڈھ، لسبیلہ اور حب کے مختلف مقامات پر ٹریفک کیلئے بندکیاگیا۔ این40کوئٹہ تفتان کوکوئٹہ،نوشکی، دالبندین، نوکنڈی اور تفتان کے مختلف مقامات پر شاہراہ بند کیا گیا۔

کوئٹہ ژوب این50قومی شاہراہ کوکوئٹہ،قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، ڑوب اور شیرانی کے مختلف مقامات پر ٹریفک کیلئے بندکیاگیا۔این 65 کوئٹہ سبی جیکب آباد قومی شاہراہ کوکوئٹہ، بولان،ڈھاڈر، سبی اور جیکب آباد کی جانب مختلف مقامات پربندکیا۔مکران کوسٹل این10مکران کوسٹل ہائی وے کو گوادر، تربت اور مکران کے دیگر علاقوں میں مختلف مقامات پر ٹریفک بند کیاگیا۔این 85شراب پنجگورہوشاب شاہراہ کوسوراب، پنجگور کے مختلف مقامات پر بھی احتجاج کے باعث آمدورفت متاثر ہوئی۔ہڑتال کے دوران ٹرانسپورٹرز،تاجر برادری اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی،جبکہ مختلف مقامات پر شاہراہوں کی بندش کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

جماعت اسلامی بلوچستان کے مطابق ہڑتال کا مقصد بدامنی، شاہراہوں پر لوٹ مار، پٹرولیم مصنوعات پر بھتہ خوری،بارڈرز کی بندش، بدعنوانی اور دیگر عوامی مسائل کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔بندکی گئی تمام اضلاع کے مین شاہراہوں پردھرنے دیے گئے کچھ مقامات پرانتظامیہ وپولیس نے لاٹھی چارج وگرفتاریاں اورمقدمات درج بھی کیے گئے۔

امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے گوادر،مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالحق ہاشمی، صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضی خان کاکڑ، نائب امراء زاہداختربلوچ مولانا عبدالکبیرشاکر ڈاکٹرعطاء الرحمان، مولانا محمد عارف دمڑ، امیرضلع کوئٹہ عبدالنعیم رند نے کوئٹہ، نائب امیر صوبہ بشیر احمد ماندائی نے نصیرآباد نائب امیر صوبہ پروفیسر مولانا محمد ایوب منصور نے جعفرآباد، ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمد اسلم گزگی نے خضدار،نورالدین غلزئی نے لورالائی،قاری امداداللہ نے چمن کوڑک جبکہ دیگراضلاع میں مقامی قائدین نے پہیہ جام ہڑتال،دھرنے واحتجاج کی قیادت کی۔

کوئٹہ سمیت مختلف مقامات پرقومی شاہراہوں پرپہیہ جام کے دوران سینکڑوں ٹرک کوچزودیگرگاڑیاں رک گئی،ایمبولینس کیلئے راستے کھول دیے گئے تھے۔دھرنے کے دوران جماعت اسلامی کے ذمہ داران وکارکنان سمیت اسلامی جمعیت طلباء￿ ، جمعیت طلبہ عربیہ، جے آئی یوتھ سمیت جماعت اسلامی کے برادرتنظیموں کے سینکڑوں کارکنان موجود ٹریفک کوروکھے رکھاتھااورحکومت کے خلاف شدیدنعرے بازی کی۔

اکثرمقامات پرٹرانسپوٹرزوتاجر نے رضاکارانہ ہڑتال میں ساتھ دیا۔اس موقع پرجماعت اسلامی کے قائدین نے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کوکیڑے مکوڑے سمجھناچوڑدیں۔عوام کوتحفظ دیاجائے۔زندہ بے گناہ لوگوں کوماورائے عدالت غائب پھران کی مسخ شدہ لاشیں پھینکناکہاں کاانصاف ہے یہ درندگی مزیدبرداشت نہیں کریں بلوچستان کے عوام بے روزگاری وغربت اوربارڈرزبندش کی وجہ سے بھوک سے مررہے ہیں حکمران قومی دولت پرعیاشی کررہے ہیں حکمرانوں ججزوجرنیلوں اورمراعات یافتہ طبقہ وی وی آئی پیزکے نام پرعوام کولوٹ رہے ہیں ان کیلئے گیس بجلی علاج تعلیم پانی سمیت سب کچھ مفت ہیں عوام کیلئے کودونوں ہاتھوں سے لوٹاجارہاہے عدالت انصاف فراہم کررہی ہے نہ میڈیاآوازبلندکرنے وظلم زیادتی رکھوانے میں ساتھ دے رہی ہے عدالت ومیڈیااورپارلیمنٹ کنٹرولڈہے حکومت پٹرول قیمت فی لیٹرتین سال کیلئے 225روپے مقررلیوی کے نام پربھتہ لینا بندکریں۔

بلوچستان کے عوام کوامن دیں لیویزوپولیس کواختیارات وسائل وتربیت دی جائے ایف سی کوبلوچستان سے بیدخل کیاجائے۔سیکورٹی فورسز کی تربیت کی جائے تاکہ وہ عوام کوعوام سمجھ کرعزت سے بات کریں۔نوجوانوں کوروزگارفراہم کرنے کیساتھ بارڈرزکی جائزتجارت کھول دیاجائے اہل بلوچستان کوایران وافغانستان سے تجارت کرنے دیاجائے۔دریں اثناء امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی کال پرکوئٹہ سے پنجاب وخیبرپختونخواہ اسلام آباد جانے والے مین شاہراہ کوبلیلی کے قریب سملی میں بند کیاگیا

جبکہ کراچی جانے والی شاہراہ کومیاں غنڈی سوناخان کے مقام پراورحیدرآبادبولان جانے والی شاہراہ کوتیرہ میل سبی روڈ مین شاہراہ کو ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بندکیے گیے اوراس موقع پردھرنے دیے گیے احتجاجی دھرنوں سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالحق ہاشمی،اے این پی کے رہنماامان اللہ خان کاکڑمہترزئی جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضی خان کاکڑ نائب امراء زاہداختربلوچ مولانا عبدالکبیرشاکر مولانا محمد عارف دمڑ امیرضلع کوئٹہ عبدالنعیم رند محمد حلیم حماس جمیل احمد مشوانی ودیگرنے خطاب کیاجماعت اسلامی بلو چستان کی کال پر صوبے بھر میں بدامنی، دہشت گردی،لاپتہ افراد، ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج مین شاہراہیں بندکرکے بھرپور احتجاج کیا گیا۔مظاہرین نے حکومت اور سکیورٹی انتظامات کی ناکامی پر بلوچستان میں پائیدار امن کے حق میں نعرے بازی کی۔

ٹائرجلائے۔بلیلی چیک پوسٹ ،بائی پاس،میاں غنڈی کی شاہراہوں پر احتجاج ریلاں دھرنے ومظاہرے کیے گیے کئی گھنٹے ٹریفک ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دی گئی۔مقررین نے مطالبہ کیاکہ بلوچستان کے عوام کاقتل عام بند اورعوام کوتحفظ فراہم کیاجائے۔

تجارت کی بحالی قانونی تجارت کیلئے بارڈرزفوری کھول لیاجائے۔اہل بلوچستان کوپٹرولیم مصنوعات پربھتہ نامنظورہے ،بلوچستان کے عوام کوایران سے پٹرولیم مصنوعات درآمدکرنے کی اجازت دی جائے۔چیک پوسٹوں پر شہریوں وعوام کی تذلیل بند کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں