مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں نے امریکا کو مشکل میں ڈال دیا، برطانوی اخبار

34

ایران کے ساتھ تقریباً چھ ماہ جاری رہنے والی جنگ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کی کمزوری واضح کردی ہے۔

اخبار کے مطابق امریکا گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے خلیجی ممالک میں پھیلے بڑے فوجی اڈوں کے نیٹ ورک کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے تاہم حالیہ جنگ کے دوران ایران نے امریکی تنصیبات کو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں نے یہ حقیقت نمایاں کردی کہ ایرانی ساحلوں کے قریب موجود بڑے امریکی اڈے جدید میزائل اور ڈرون خطرات کے مقابلے میں کس حد تک غیر محفوظ ہیں۔

ایرانی حملوں کے دباؤ کے باعث امریکا نے اپنی کچھ افواج اور جنگی طیاروں کو اسرائیل، اردن اور دیگر نسبتاً محفوظ اور دور دراز مقامات پر منتقل کیا جبکہ بعض امریکی طیاروں اور ڈرونز نے یورپ میں موجود فوجی اڈوں سے بھی کارروائیاں کیں۔

اب واشنگٹن کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا خطے میں متاثرہ فوجی تنصیبات کی دوبارہ تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کیے جائیں یا بدلتی ہوئی جنگی صورتحال کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کے پورے ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

واشنگٹن کے تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ نے اپریل میں اندازہ لگایا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے 7 ممالک میں موجود 11 امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت پر تقریباً 5 ارب ڈالر درکار ہوسکتے ہیں۔

تاہم پینٹاگون نے ایران کے ساتھ جنگ کی مجموعی لاگت کے تخمینے میں ان اڈوں کی تعمیر نو کے اخراجات شامل نہیں کیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں