ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی فوج کا ایک جدید بغیر پائلٹ والا ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا جس پر امریکا کا ردعمل سامنے آگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی دفاعی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی زیرِ آب ڈرون ضرور ضائع ہوا ہے تاہم ایران کا کسی فعال امریکی فوجی آبدوز کو آپریشن کے دوران شکست دے کر قبضے میں لینے کا دعویٰ جھوٹ ہے۔
پینٹاگون کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جو ڈرون آبدوز ایران نے پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے وہ ایک دن سے زائد عرصے پہلے خراب ہوگیا تھا اور علاقائی پانیوں کا سروے کرتے ہوئے جاری آپریشنز کی معاونت کر رہا تھا۔
امریکی حکام نے اس زیرِ آب ڈرون Dive-LD کو پرانا ماڈل قرار دیا جسے امریکی دفاعی کمپنی Anduril نے تیار کیا ہے۔ اس میں حساس معلومات، خفیہ سونار یا ریڈار نظام موجود نہیں تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک ایسا خودکار نظام ہے جسے خطرناک ماحول میں کام کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کے ضائع ہونے کا امکان پہلے سے اس کے ڈیزائن کا حصہ ہے۔









