پشتون اور بلوچوں کے حقوق تسلیم کرنے کی بجائے ان کی آوازوں کو دبایا جارہاہے، عوامی نیشنل پارٹی

10

اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے گزشتہ روز پارٹی کے زیر اہتمام ہونے والے پر امن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے لئے پولیس کھڑی کرکے جان بوجھ کر حالات خراب کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہم باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے پر عمل پیرا ہے پر امن احتجاج میں رکاوٹ ڈال کر ہمیں نقصان پہنچا کر پھر ذمہ داری ہم پر ڈال دی جاتی کہ نقصان ان کی وجہ سے ہوگیا۔

موجودہ فارم 47کی حکومت کے باعث بلوچستان انتہائی خطرناک دور سے گزر رہا ہے اغواء، بھتہ خوری، ٹرانسپورٹس کو جلانا اور آئے روز لاشیں گرنا باعث تشویش ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر مابت کاکا، رشید ناصر سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہرنائی، شاہرگ، قلعہ عبداللہ،چمن خضدار سمیت تمام علاقوں میں افرا تفری پھیلی ہوئی ہے سیاسی پر امن رہنماؤں کو شہید اور وسائل کو بے دردی سے لوٹا جارہا ہے۔

انہیں ہماری جانوں کی کوئی پرواہ نہیں انہیں یہاں کے وسائل سے سروکار ہیں۔ خضدار کے علاقے زہری میں سردار نصیر موسیانی کو زخمی اور ان کے بیٹے کو شہید، قلعہ عبداللہ، میزئی اڈہ میں دولت خان داد محمد کاکڑ کو بھی شہید کرکے جعلی حکومت عوام کیلئے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ملک میں پر امن سیاسی احتجاج، جلسہ اور آواز بلند کرنے پابندی ہے جعلی حکومت کو بیٹھا کر مرضی کے فیصلے کروائے جارہے ہیں۔ ہر طرف بد امنی، افرا تفری پھیلی ہوئی ہے جس کی وجہ سے کسی کی جان و مال محفوظ نہیں لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا کر تھک چکے ہیں ریاست کو ان سے کوئی سروکار نہیں بلکہ انہیں بلوچ اور پشتون کے وسائل سے سروکار ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ جیل میں بند خواتین کی وجہ سے بلوچستان میں بد امنی پھیل رہی ہے وہ خواتین تو جیلوں میں بند پھر کیوں بدامنی ختم نہیں ہورہی جوکہ ریاستی غلط بیانی،جبری طور پر لوگوں کو پابند سلاسل اور حالات کو مزید خراب کرکے مسائل میں الجھانے کی سازشیں ہیں جس سے لوگ باخبر ہیں اب ان کی تمام کارروائیاں اور سازشیں ڈھکی چھپی نہیں رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ دن کے اجھالے میں لوگوں کے سامنے ہورہے ہیں۔ ان حالات میں بارڈر بند حکومت کے پاس روزگار کے کوئی ذرائع موجود نہیں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت جو روزگار کماکر اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے تھے ان کی گاڑیاں محفوظ نہیں آئے روز ٹرکس جلائے جارہے ہیں۔ سیندک، سوئی، زرغون غر، شاہرگ، ہرنائی سے وسائل نکلنے کے باوجود وہاں کے باسی بنیادی ضروریات کے لئے ترس رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سول ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر ڈاکٹرز سراپا احتجاج ہے حکومت ان کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے انہیں گرفتار کررہی ہے فارم 47 کی حکومت کو چاہئے کہ ڈاکٹرز کی بات سن کر جو وہ مطالبہ کررہے ہیں اس پر جوڈیشل انکوائری کمیٹی بناکر حقائق منظر عام پر لائے جائیں مسائل حل کرنے کی بجائے مزید الجھا کر صوبہ کو افرا تفری اور غیر یقینی کی صورتحال سے دو چار کیا جارہا ہے۔

ملازمین گرینڈ لائنس سے کئے گئے وعدے وفا کرنے کی بجائے انہیں بد عہدی کرکے جبری طور پر ریٹائر اور روڈوں پر گھسیٹ کر ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے جوکہ مسئلہ کا حل نہیں بلکہ تمام مسائل کا مل بیٹھ کر حل نکالا جائے۔ ہم ملازمین کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہے۔ راشن اور دیگر مدات میں اربوں روپے کرپشن کیلئے حکومت کے پاس ہے لیکن سالانہ 10 سے 12 ارب روپے ملازمین کیلئے نہیں اس طرح کے ناروا اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت ملازمین اور عوام کو سہولت دینے کی بجائے اپنی شاہ خرچیوں میں لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بندوق برداری نے ہمارے وطن کو برباد کردیا لشکر پر لشکر بنائے جارہے ہیں۔

ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب لوگوں کی رشتہ داریاں، مسجد اور محراب کو نگران حکومت میں ختم کرکے لوگوں پر روزگار کے دروازے بند کردیئے گئے۔ریاست افغانستان میں جہاد کے نام پر مجاہدین بناکر بھیجے اب تو وہاں ان کی بنائی ہوئی حکومت تو افغانستان کے ساتھ معاملات کیوں اس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ کشمیر میں بھی حالات خراب کئے جارہے ہیں ہر جگہ اپنی من مانیاں کرکے غیر منتخب حکومتیں عوام پر مسلط کی جارہی ہے۔ بلوچستان میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو فاتحہ لینے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

ایم پی اے، ایم این اے، سینٹر اور کونسلر تک اپنی مرضی سے لارہے ہیں یہ آپ کو یہ فائدہ دے رہے ہیں اب یہ سنی سنائی باتیں نہیں رہی ہے۔ سردار اختر مینگل کے بھائی کو لاپتہ کیا گیا 77 سال سے لیکر آج تک پشتون اور بلوچوں کے حقوق تسلیم کرنے کی بجے انہیں جعلی حکومتوں کے ذریعے ان کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ان کے تمام تجربے ناکام ہوچکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں