بھارت کا جوہری توانائی قوانین میں بڑی تبدیلی کا اعلان

65

نیوی دہلی: بھارت نے توانائی سے متعلق قوانین میں بڑی اصلاحات کی تیاری کرتے ہوئے 214 ارب ڈالر کے جوہری توانائی کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی ٹی وی بلوم برگ کے مطابق، بھارتی وزیرِ جوہری توانائی جیتندر سنگھ کا کہنا ہے کہ نیا جوہری بل اس ہفتے کابینہ میں پیش کیا جائے گا اور رواں پارلیمانی سیشن میں منظوری کے لیے رکھا جائے گا۔

نئی قانون سازی کا مقصد:

نجی شعبے کو جوہری توانائی میں سرمایہ کاری کی اجازت دینا۔

بجلی کی پیداوار میں نجی کمپنیوں کی شمولیت کو ممکن بنانا۔

جوہری ذمہ داری کے قانون میں ترمیم کرنا تاکہ غیر ملکی کمپنیوں کی شراکت آسان ہو۔

وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف ہے کہ 2047 تک بھارت میں 100 گیگا واٹ جوہری توانائی پیدا کی جائے تاکہ ملک کو ترقی یافتہ معیشت بنایا جا سکے۔

اس وقت بھارت میں نجی شعبے کا کردار صرف آلات کی فراہمی تک محدود ہے، جبکہ موجودہ غیر ملکی ٹیکنالوجی پر مبنی واحد پلانٹ کڈانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ روسی تعاون سے چل رہا ہے۔ مزید 4 ری ایکٹرز زیرِ تعمیر ہیں اور نئی پالیسی کے تحت روس کے ساتھ ایک اور منصوبے کے آغاز کا امکان ہے۔

یہ اقدام بھارت کے توانائی کے شعبے کو نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھولنے اور مستقبل میں جوہری توانائی کے بڑے منصوبے شروع کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں