بلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل

44

سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان اور یہاں کے وکلا سے ان کا تعلق ہمیشہ قائم رہے گا صوبے کے حالات دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔

کوئٹہ میں بلوچستان بار کونسل کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے الوداعی عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ بطور جج انصاف کی فراہمی ان کی آئینی ذمہ داری اور فرض تھا جسے انہوں نے نبھانے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ غور طلب بات ہے کہ بدقسمتی سے بلوچستان میں موجودہ حالات کیوں پیدا ہوئے۔ امن قائم ہوگا تو کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں گی اور لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے عدالتوں کا رخ کریں گے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ماضی کا پرامن ماحول واپس لانے کے لیے تمام متعلقہ حلقوں کو مل بیٹھ کر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

الوداعی تقریب میں سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز سمیت وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں