وزیراعظم سے ملاقات میں ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ شروع ہوگا، حافظ نعیم

31

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ جماعت اسلامی اپنی تحریک سے دستبردار نہیں ہوئی، وزیراعظم سے ملاقات میں مطالبات پر ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ شروع کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی و اپوزیشن جماعتیں عوامی مسائل پر بات نہیں کر سکتیں کیونکہ پٹرولیم، ریفائنریز، چینی اور دیگر مافیاز انہی جماعتوں میں موجود ہیں، چند نشستیں حاصل کرنے کی خواہش انقلاب برپا نہیں کرسکتی۔

لاہور میں ملک گیر اجتماع کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنی حکمت عملی میں کوئی انحراف نہیں کیا، بجلی، آئی پی پیز اور انسانیت کو دبانے والے مافیاز کو بے نقاب کیا جا رہا ہے۔ مافیاز اور ظلم کی تمام شکلوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں آئی پی پیز کے معاملے پر عوام میں آگاہی پیدا ہوئی اور حکومت نے مسلسل دباؤ کے بعد 57 آئی پی پیز سے بات کی۔ حافظ نعیم نے کہا کہ ملک میں 100 سے زائد آئی پی پیز ہیں اور تمام حکومتوں نے مل کر انہیں فائدے پہنچائے۔ حکومت کو آئی پی پیز سے بات کرنے سے 4500 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ حکومتی و اپوزیشن جماعتیں آئی پی پیز کے خلاف ایک حد سے آگے نہیں جاسکتیں، پٹرولیم مافیا، ریفائنریز اور چینی مافیا بھی ان جماعتوں میں موجود ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر چند ماہ قبل لوگ زیادہ آگاہ نہیں تھے، جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ جگا ٹیکس ہے۔ آج میڈیا پر روزانہ لیوی ختم کرنے کی بات ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد سے عوامی مسائل قومی سطح پر زیر بحث آئے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے لاہور، کراچی، حیدرآباد، کرک اور راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں دھرنے دیے، جلسے، ہڑتالیں اور لانگ مارچ کیے۔ دھرنے آسان نہیں تھے، عوام اور کارکنوں کی محنت سے کامیاب ہوئے۔ حکومت سے مذاکرات میں سود کی شرح کم کرنے کا مطالبہ کیا، پہلے مرحلے میں شرح سود میں 3 فیصد کمی سے 1700 ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں