کو ئٹہ کراچی سمیت بلوچستان کے تما م قومی شا ہراہیں محفوظ بنا ئے جا ئیں ، مو لا نا ہدایت

28

امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ کوئٹہ کراچی سمیت بلوچستان کی تمام قومی شاہراہوں کو محفوظ،سکھرروٹ پربلوچستان کے ٹرانسپورٹرزکے ساتھ سندھ پولیس کی مبینہ لوٹ ماراور ناروا سلوک کا فوری نوٹس لیا جائے۔

کراچی میں پشتون و بلوچ تاجروں،ہوٹل مالکان،مزدوری کرنے والے نوجوانوں اور دیگر کاروباری افراد کوبلاوجہ نقدی سے محروم کرنے شناختی دستاویزات کے بہانے پر افغان مہاجر قرار دے کر ہراساں،لوٹنے اور تعصب کا نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

بلوچستان کے عوام امن،بنیادی حقوق، ترقی اور خوشحالی سے محروم ہیں،ریاستی اداروں اورحکومتوں کو عوام کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گوادر میں مختلف وفود سے ملاقاتوں اور تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے امن،حقوق، روزگار،تجارت اور ترقی کے لیے ایک بڑی،منظم اور اجتماعی تحریک کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد کے حکمرانوں اور طاقتور طبقات کو بلوچستان کے حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے محض اعلانات کے بجائے امن،ترقی،خوشحالی اور بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے فوری اور سنجیدہ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام شدید پریشانی اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ ٹرانسپورٹرز اور تاجر سفر،تجارت اور روزگار کے مواقع سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ بارڈرز کی بندش نے پہلے سے مشکلات میں گھرے عوام کی زندگی مزید اجیرن کردی ہے۔

سرحدی تجارت بلوچستان کی معیشت اور لاکھوں خاندانوں کے روزگار سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے بارڈرز کو غیر ضروری طور پر بند رکھنے کے بجائے شفاف، محفوظ اور باعزت تجارتی نظام قائم کیا جائے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو لوٹ مار، بھتہ خوری اور غیر ضروری چیکنگ و ہراسانی سے نجات دلانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کوئٹہ کراچی، کوئٹہ سکھر، کوئٹہ تفتان، کوئٹہ چمن اور دیگر اہم شاہراہوں پر سفر کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

اگر شاہراہیں محفوظ نہ ہوں اور تاجرو ٹرانسپورٹر خوف کے ماحول میں کاروبار کریں تو صوبے کی معیشت مزید تباہی کا شکار ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک کے کسی بھی شہر میں پشتون،بلوچ یا کسی بھی پاکستانی شہری کے ساتھ لسانی و علاقائی تعصب ناقابل قبول ہے۔ کسی شہری کو محض حلیے، زبان، قومیت یا کسی شبہے کی بنیاد پر افغان مہاجر قرار دے کر تذلیل، گرفتاری، لوٹ مار یا کاروباری نقصان سے دوچار کرنا ظلم اور ناانصافی ہے۔

تمام شہریوں کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق یکساں سلوک کیا جائے اور ایسے واقعات کا فوری سدباب کیا جائے۔امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے کہا کہ بدعنوانی،بے روزگاری،غربت، منشیات،بدامنی اور جرائم میں تشویشناک اضافہ لمحہ فکریہ ہے۔ صوبے میں نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیم کے مواقع پیدا کرنے کے بجائے اگر انہیں مایوسی اور بے یقینی کے حوالے کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ حکومت بلوچستان کے وسائل، معدنیات، ساحل، سرحدی تجارت اور دیگر ذرائع آمدن کو عوام کی فلاح و بہبود،تعلیم، صحت، روزگاراور بنیادی سہولیات پر خرچ کرے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے اب بڑے بڑے وعدوں اور دعوں کے بجائے اپنی جان و مال کے تحفظ، امن، عزت،روزگاراور بنیادی حقوق کا مطالبہ کردیا ہے۔ عوام کو پینے کا صاف پانی،بجلی،گیس، سڑکیں،تعلیم،صحت اور روزگار سمیت بنیادی سہولیات فراہم کرناحکومت کی ذمہ داری ہے۔ گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں کے عوام کو ان کے وسائل پر بااختیار بنانے اور ترقی کے ثمرات میں حقیقی حصہ دینے کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

امن،آئینی حقوق،شفاف حکمرانی، کرپشن کے خاتمے، روزگار، محفوظ شاہراہوں، آزادانہ تجارت اور بلوچستان کے وسائل پر عوام کے حق کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور پرامن فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔حکومت فوری طور پر ٹرانسپورٹرز، تاجروں، سیاسی و سماجی نمائندوں اور عوامی وفود سے مذاکرات کرکے مسائل کا قابلِ عمل اور مستقل حل نکالے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے عوام کو امن،انصاف، عزت اور ترقی فراہم کرنے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتیں مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اختیار کریں، شاہراہوں کو محفوظ بنائیں، بارڈرز کھول کر قانونی تجارت کو فروغ دیں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو تحفظ فراہم کریں اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ یہی بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کا راستہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں