ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں سرکاری محکموں میں ملازمتوں کی فراہمی میں تاریخ کی بدترین اقرباپروری، سفارش کلچر اور آسامیوں کی خرید و فروخت کو صوبے کے قابل، محنتی اور مستحق نوجوانوں کی حق تلفی اور میرٹ کی پائمالی اور اس طرح کے روش کو صوبے کی بربادی اور پسماندگی کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ جب سے موجودہ جعلی حکومت برسر اقتدار آئی ہے صوبے بھر کے نوجوانوں کی حق تلفی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جبکہ کوئٹہ کے نوجوانوں اور ہزارہ قوم کے قابل و محنتی بیروزگار طبقے کی فریاد سننے والا کوئی فرد نہیں اور انکی آواز ایوانوں تک پہنچانے والا بھی کوئی موجود نہیں۰ بیان میں کہا گیا کہ کوئٹہ کے تمام حقیقی مقامی افراد کا راستہ روک کر ان پر جس طرح کے لوگ لاکر مسلط کئے گئے ان میں کوئٹہ والوں کی نمایندگی کرنے کی صلاحیت، قابلیت حتی کہ کسی طرح کی دلچسپی تک موجود نہیں یہیں وجہ ہے کہ کوئٹہ کے نوجوانوں اور عام شہریوں کے مسائل میں آئے روز کے حساب سے اضافہ ہوتا جارہاہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تمام سرکاری محکمے ٹھیکیداروں کے حوالے کئے گئے ہیں اور ان سے مافیاز اپنے مفادات و مقاصد حاصل کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ صوبہ کے حقیقی بیروزگاروں کو روزگار نہیں مل رہے ہیں صوبے کے تمام معاملات ایڈہاک بنیادوں پر چلاکر توقع کی جارہی ہے کہ حالات قابو میں آجائیں گے جو کہ انتہائی دشوار کام ہے۔ بیان میں زندگی کے تمام شعبوں خصوصا سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کو ضروری قرار دیتے ہوئے مستحق، قابل بیروزگار نوجوانوں کو اہلیت کی بنیاد پر ملازمتیں دینے اور کوئٹہ کے نوجوانوں کو زندگی کے تمام شعبوں میں ترجیح دینے کا مطالبہ کیا گیا۔









