جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ امداد چوک کے قریب زرغون روڈ پر قائم ایف سی چیک پوسٹ شہریوں کے لیے باعثِ اذیت بن چکی ہے، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر اور روزانہ سفر کرنے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شہر کے وسط میں چیک پوسٹوں کے قیام اور آمدورفت میں رکاوٹوں سے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے سکیورٹی کے نام پر عام شہریوں کو مشکلات میں مبتلا کرنے کے بجائے ایسے مؤثر اقدامات کیے جائیں جن سے سکیورٹی کے تقاضے بھی پورے ہوں اور شہریوں کو سہولت بھی میسر آئے۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال تشویش ناک ہے، چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم کے سدباب کے لیے متعلقہ انٹیلی جنس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی ذمہ داریوں کا مؤثر انداز میں احساس کرتے ہوئے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔ بالخصوص ہزار گنجی، سریاب، قمبرانی روڈ اور شہر کے دیگر علاقوں میں پولیس تھانوں کی حدود کے اندر جرائم کی روک تھام، مؤثر گشت اور قانون کی عملداری یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، لہٰذا سکیورٹی اقدامات کا مقصد شہریوں کی نقل و حرکت محدود کرنا نہیں بلکہ جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہونا چاہیے۔
جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ امداد چوک کے قریب زرغون روڈ پر قائم ایف سی چیک پوسٹ کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کا فوری نوٹس لیا جائے، ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں اور شہر بھر میں امن و امان کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ شہریوں کو تحفظ، سہولت اور پْرامن ماحول میسر آسکے۔









