39

گوادر کے سمندر میں بلوم کی موجودگی کے باوجود ڈولفنز کا نظارہ، گروپ کو ایک ساتھ دیکھا گیا

گوادر کے قریب سمندر میں نوکٹیلُوکا بلوم کے باعث پانی سبز ہونے کے باوجود ڈولفنز کا گروپ ایک ساتھ دیکھا گیا جسے ماہرین نے مثبت علامت قرار دیا۔

ذرائع کے مطابق بلوم کے باوجود مچھلیوں کی ہلاکت کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بلوم زہریلا نہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق نوکٹیلُوکا بلوم ایک قدرتی موسمی عمل ہے اور اس کا آلودگی سے کوئی تعلق نہیں، یہ بلوم عام طور پر سی اسپارکل کے نام سے جانا جاتا ہے جو نوکٹیلُوکا نامی ایک چھوٹے تیرنے والے سمندری جاندار کی وجہ سے بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق نوکٹیلُوکا بلوم ہر سال سردیوں میں نومبر سے فروری کے دوران ظاہر ہوتا ہے، رواں سال اس کا آغاز نومبر میں ہوا اور یہ کراچی سے بلوچستان کے ساحل تک پھیل چکا ہے۔

بلوم کے باعث گوادر کے مغربی اور مشرقی خلیج کے ساتھ ساتھ پسنی سے جیوانی تک سمندر کا پانی سبز نظر آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈولفنز کی موجودگی اس بات کی نشاندہی ہے کہ سمندری ماحول اب بھی متوازن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں