سعودی عرب کے تین شہروں خمیس مشیط، ابہا اور طائف پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوگئے جبکہ 7 رہائشی مکانات اور 2 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
خلیجی خبر رساں ادارے کے مطابق یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ حوثیوں نے شہری آبادیوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
ترکی المالکی کے مطابق حملوں میں زخمی ہونے والے 13 افراد کو معمولی سے درمیانے درجے کے زخم آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حملوں کے نتیجے میں شہری املاک کو پہنچنے والا نقصان حوثیوں کی جانب سے شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مسلسل کارروائیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
سعودی اتحاد کے ترجمان نے کہا کہ اتحاد سعودی عرب کی خودمختاری، شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے مؤثر اور سخت ردعمل دے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کا ممکنہ جواب اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق ہوگا۔
ترکی المالکی کے مطابق سعودی اتحاد مزید حملوں کی روک تھام اور حوثیوں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری فوجی اقدامات کرے گا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے اور خطے میں جاری وسیع تر جنگ کے باعث بحیرہ احمر اور خلیجی علاقے میں سکیورٹی صورتحال بھی انتہائی حساس ہے۔









