!دفاعی بجٹ، تعلیم، سود اور عوام ۔۔۔۔ ٹیکس کہانی

41

ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایک خوشحال زندگی گزار سکے، اپنی اور اپنے خاندان کی کم از کم جائز ضروریات پوری کر سکے، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کے موجودہ معاشی حالات اور نظام کے مطابق اگر آپ ساری زندگی محنت کرتے رہیں تو پھر بھی آپکا معیار زندگی بہتر نہیں ہو پائے گا کیونکہ جتنا آپ کمائیں اتنا ہی اشرافیہ کو کھلائیں گے، آج اس تحریر کے ذریعے میں آپ کو بتاؤں گا لوٹ مار کی وہ داستان جس کو سن کر آپ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے۔

یہ تو آپ جانتے ہیں کہ آپ صابن، پتی ، بسکٹ، سرف جیسی چیزوں پر ہر سو روپے کی خریداری پر 18 روپے ادا کرتے ہیں، پھر ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 80 روپے تک لیوی دیتے ہیں، بجلی کے بل پر سیلز ٹیکس، ایکسٹرا ٹیکس، مزید ٹیکس اور پھر پتہ نہیں کون کون سا سرچارج ادا کرتے ہیں، پراپرٹی ٹیکس دیتے ہیں، فون لوڈ پر ٹیکس دیتے ہیں، لیکن پھر بھی آپ کو طعنہ دیا جاتا ہے کہ آپ ٹیکس نہیں دیتے، یہ لوٹ مار کا کیسا ٹریپ ہے اور کیسے یہ آپ کو زندگی بھر غریب رکھ سکتا ہے، آئیے اسے سمجھتے ہیں۔

پاکستانی عوام نے 7 سال پہلے کے مقابلے میں اس سال تقریباً 3 گنا یا 300 فیصد زیادہ ٹیکس دیا، ان اعداد و شمار کو غور سے پڑھیں، عوام نے 19-2018 میں 3,828 ارب روپے ٹیکس دیا، 20-2019 میں 3,997 ارب، 21-2020 میں 4,745 ارب، 22-2021 میں 6,148 ارب، 23-2022 میں 7,164 ارب، 24-2023 میں 9,299 ارب اور 25-2024 میں 11,744 ارب روپے ٹیکس دیا، یعنی 2018 میں جو ٹیکس کولیکشن تقریباً 4000 ارب روپے کے قریب تھی، اس سال 12000 ارب روپے کے قریب ہے۔

اب یہاں عوام کا حکومت سے سوال کرنا بنتا ہے کہ اگر یہ بیانیہ درست ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتی یا کم دیتی ہے تو یہ ٹیکس کولیکشن 3 گنا بڑھ کیسے گئی؟ جادو سے؟ نہیں بلکہ عام لوگوں پر بوجھ ڈال کر۔

خیر یہاں سوال یہ بھی ہے کہ اگر عوام اتنا ٹیکس دیتی ہے تو پھر یہ جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے کہ پاکستان میں ٹیکس نہیں دیا جاتا، اس کا جواب بالکل واضح ہے، ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ اس مفروضے کو جواز بنا کر عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالا جا سکے، ظلم یہاں ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی سمجھیں کہ ٹیکس دینے کے باوجود شاید آپ کو حکومت سے وہ سہولتیں نہ ملیں جو ٹیکس کے بدلے ملنی چاہئیں، ایسا کیوں ہے؟ یہ سمجھنے کیلئے آپ کو پاکستان کے اخراجات سمجھنے ہوں گے۔

26-2025 کے بجٹ میں کل اخراجات کا اندازہ 17 ہزار 573 ارب روپے رکھا گیا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے 6501 ارب روپے خسارہ ہے یعنی ہمارے پاس اتنے خرچ کے پیسے ہیں ہی نہیں تو اس لئے ہمیں قرض لینا پڑتا ہے، لیکن اصل جھٹکا تو تب لگتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قرض اور سود کی ادائیگی پر 8207 ارب روپے خرچ ہوں گے، 2025 میں پاکستان کو 26 ارب ڈالر کا بیرونی قرض واپس کرنا تھا، یعنی قرض اور سود کی ادائیگی ہمارے دفاع، تعلیم، صحت، ترقیاتی منصوبوں، انفراسٹرکچر سمیت بنیادی شعبوں کے اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔

اب ایک طرف قرض اور ٹیکس بڑھ رہا تو دوسری طرف پاکستان میں مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت 25 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور ملکی آبادی کا 44 فیصد حصہ غربت سے متاثر ہے۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی اب قرض لیا تو جیسے تیسے ادا تو کرنا پڑے گا؟ رو کیوں رہے ہو؟ اس میں حکومت کیا کر سکتی ہے؟ چلیں یہ ایک فیکٹر ہے جس کیلئے کوئی معاشی عجوبہ چاہیے۔

لیکن ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پورے ملک کو دیکھ لیں ہر جانب بد انتظامی اور کرپشن کی داستانیں ہی داستانیں ہیں، آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے ہر درجے پر بدعنوانی کے خطرات موجود ہیں، اس سال کی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت اور اس کے ماتحت محکموں و اداروں میں 9.769 کھرب روپے کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔

یعنی یہ پیٹرن اس طرح بنتا ہے کہ اخراجات کیلئے قرض لیا جاتا ہے، جس میں کرپشن اور مس مینمجنٹ ہوتی ہے، اس کو پورا کرنے کیلئے پھر سے قرض لیتے اور ٹیکس لگاتے ہیں، پھر سے کرپشن اور مس مینمجنٹ ہوتی ہے، پھر مزید ٹیکس لگایا جاتا ہے، یہ سائیکل چلتا چلتا اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ ہمارے شاید سانس پر بھی ٹیکس لگ جائے۔

مسئلہ صرف کرپشن یا مس مینمجنٹ تک محدود بھی نہیں ہے، مسئلہ احساس کا بھی ہے، آپ اس حکمران اشرافیہ کی بے حسی کا انداز لگائیں کہ اس سال کے وفاقی بجٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی سرکاری رہائش کیلئے اخراجات 72 کروڑ سے بڑھا کر تقریباً 86 کروڑ روپے کئے گئے تھے، صرف وزیراعظم ہاؤس کے باغیچے کیلئے 4 کروڑ 48 لاکھ روپے بجٹ رکھنے کی تجویز دی گئی، دوسری جانب ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 300 فیصد اضافہ اور وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں میں 140 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

اب یہ جو میں نے ساری ریسرچ بتائی ہے یہ وہ حقائق ہیں جو سامنے آئے اور پبلش ہوئے، جو سامنے نہیں آئے ان کا تو کوئی حساب ہی نہیں، لیکن خلاصہ یہ ہے کہ کمائیں گے آپ، کھائیں گے حکمران، اس طرح نسلوں کی نسلیں تباہ ہو جائیں گی، لیکن حالات نہیں بدلیں گے۔

یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ عوام یا ان کا ٹیکس نہ دینا نہیں، بلکہ قرض، سود، کرپشن اور حکمران طبقے کی عیاشیاں ہیں، جب تک عوام حقیقت نہ سمجھ لیں اور جب تک ہم اپنی آواز نہیں اٹھائیں گے، تب تک ہمارا حال بہتر نہیں ہونے والا، چاہے ہم ہزاروں ارب ٹیکس دیں، جب تک نظام بدلتا نہیں، ہمارا مستقبل نہیں بدل سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں