کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای) کی پریس فریڈم اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مقصود احمد یوسفی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے کمیٹی کے اراکین اور صحافتی نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستان میں آزادی صحافت، صحافیوں کے تحفظ، پریس کلبوں کی بندش، صحافیوں کے خلاف مقدمات و کارروائیوں، سائبر کرائم کے نوٹسز، صحافیوں کی گرفتاری و گمشدگی، میڈیا ورکرز کے معاشی مسائل اور پرنٹ میڈیا کو درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے ملک کے مختلف علاقوں میں صحافیوں کو درپیش مسائل اور آزادی صحافت سے متعلق واقعات سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ سندھ میں نصیراللہ گڈانی کے قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران مبینہ خوف و دباؤ، صحافی محمد پیرل کے خلاف مقدمے، صحافی طفیل رند کے کیس، بلوچستان کے ڈیرہ اللہ یار میں صحافی نذر علی کندرانی پر فائرنگ اور اسلام آباد کے دو صحافیوں رازی طاہر اور محمد سیف کے لاپتا ہونے کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔
کمیٹی نے ان واقعات سے متعلق مزید معلومات اور تصدیق شدہ تفصیلات حاصل کرکے سالانہ میڈیا فریڈم رپورٹ میں شامل کرنے پر زور دیا۔
اجلاس میں پریس کلبوں کے راستوں کی بار بار بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے بتایا کہ بعض مقامات پر رواں سال متعدد مرتبہ پریس کلب بند کیے گئے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پریس کلب صحافیوں اور شہریوں کے لیے اظہارِ رائے کا اہم پلیٹ فارم اور محفوظ مقام ہیں، اس لیے ان کی بندش کو آزادی صحافت پر قدغن کے طور پر سالانہ رپورٹ میں شامل کیا جانا چاہیے۔
کمیٹی کے اجلاس میں لاہور میں صحافیوں کے ساتھ مبینہ پولیس تشدد کے ایک واقعے کا بھی ذکر کیا گیا۔ شرکا نے صحافیوں کی فیلڈ رپورٹنگ کے دوران پولیس اور انتظامیہ کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صحافیوں کی شناخت اور تحفظ کے لیے موثرSOPs پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شرکاء نے صحافیوں کے خلاف PECA، سائبر کرائم اور NCCIA کی کارروائیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مختلف شہروں سے صحافیوں کو نوٹسز، FIRs اور دیگر قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنے کے واقعات اجلاس میں بیان کیے گئے۔
اس موقع پر سی پی این ای کی جانب سے واضح کیا گیا کہ کسی بھی صحافی یا رپورٹر کے معاملے میں موقف اختیار کرنے سے قبل شواہد کی جانچ ضروری ہے۔ اگر قابلِ اعتماد شواہد موجود ہوں تو سی پی این ای صحافی کے ساتھ کھڑا ہوگا، جبکہ غیرمصدقہ دعووں کی حمایت نہیں کی جائے گی۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سالانہ میڈیا فریڈم رپورٹ میں صرف تصدیق شدہ واقعات شامل کیے جائیں۔ شرکا ء نے کہا کہ تحقیقاتی صحافت میں معلومات کے ساتھ قابلِ تصدیق شواہد بھی ضروری ہیں۔ کمیٹی رپورٹ مرتب کرنے سے قبل واقعات کی متعلقہ صحافتی ذرائع اور دیگر دستیاب ذرائع سے دوبارہ تصدیق کرے گی۔
صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے اجلاس میں سندھ اور وفاق میں صحافی تحفظ کمیشن کو موثر بنانے اور دیگر صوبوں میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے بھی کمیشنزکے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
سی پی این ای سے مطالبہ کیا گیا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے متعلقہ فورمز پر آواز بلند کی جائے۔اجلاس میں اخبارات کے واجبات ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔پرنٹ میڈیا کو درپیش معاشی مشکلات اور ڈیجیٹل میڈیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
شرکا ء نے کہا کہ پرنٹ میڈیا میں ملازمتوں میں کمی اور صحافیوں کی برطرفی آزادی اظہار کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اشتہارات کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جانب منتقل ہونے کے باعث پرنٹ میڈیا کو اپنی بقا ء کے لیے نئی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔
اجلاس میں میڈیا پر بڑھتے ہوئے کنٹرول، نیوز رومز اور بیوروز کی بندش اور ادارتی آزادی کو درپیش چیلنجز پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ موجودہ حالات میں سی پی این ای کو اپنے کردار کی ازسرِنو وضاحت کرتے ہوئے پیشہ ور ایڈیٹرز، صحافتی اداروں اور میڈیا اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشترکہ میکانزم تشکیل دینا چاہیے۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ملک بھر سے صحافیوں کو درپیش مسائل اور آزادی صحافت کی خلاف ورزیوں سے متعلق معلومات باقاعدگی سے حاصل کی جائیں گی اور ان کی تصدیق کے بعد سی پی این ای کی سالانہ میڈیا فریڈم رپورٹ میں شامل کیا جائے گا۔
اجلاس میں باقاعدہ ماہانہ اجلاس منعقد کرنے اور ملک بھر سے موصول ہونے والی معلومات و تجاویز کو ریکارڈ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سی پی این ای آزادی صحافت، ذمہ دار صحافت، صحافیوں کے تحفظ اور میڈیا ورکرز کے بنیادی حقوق کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا اور ملک بھر کی صحافتی برادری کو ایک موثر مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
سی پی این ای پریس فریڈم اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی کے اس ویڈیو لنک اجلاس میں چیئرمین مقصود احمد یوسفی کے ساتھ سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل غلام نبی چانڈیو، فنانس سیکریٹری عارف بلوچ، عبدالخالق علی سی پی این ای سیکریٹریٹ جبکہ کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین ضیاء تنولی،یحییٰ سدوزئی، طاہر فاروق، ڈاکٹر توصیف احمد خان، مظہر عباس، مائرہ عمران، ناصر حسین اور اشرف مجید نے بھی شرکت کی۔









