واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس حب کی جانب سے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ دورانِ تفتیش عدالتی احکامات کی روشنی میں حاصل شدہ فوٹیجز اور ویڈیو ریکارڈنگ کے تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی کہ چند افراد کی مبینہ ملی بھگت سے ملزم کے فرار ہونے میں معاونت کی گئی۔
عدالتِ جناب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حب میں زیرِ التواء مقدمہ کے فیصلہ سنائے جانے اور ملزم کو سزا ہونے کے بعد، سزا یافتہ ملزم شہزاد بھوتانی کے احاطۂ عدالت سے فرار ہونے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس حب کی جانب سے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ دورانِ تفتیش عدالتی احکامات کی روشنی میں حاصل شدہ فوٹیجز اور ویڈیو ریکارڈنگ کے تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی کہ چند افراد کی مبینہ ملی بھگت سے ملزم کے فرار ہونے میں معاونت کی گئی۔
ڈسٹرکٹ پولیس نے فوری قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ایسے افراد کے خلاف مقدمات درج کرکے گرفتاریاں عمل میں لائی ہیں، جو سزا یافتہ ملزم کی فراری میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث پائے گئے۔ مزید تفتیش جاری ہے اور واقعہ کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
مزید برآں، ملزم کی احاطۂ عدالت سے بآسانی فراری کے واقعہ میں غفلت برتنے پر پولیس اہلکار انسپکٹر علی اکبر زہری، اے ایس آئی غلام سرور اور ہیڈ کانسٹیبل رائیس کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس حب اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ قانون کی عملداری میں کسی قسم کی جانبداری، غفلت یا فرائض میں کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، اور قانون کے مطابق بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ قانون سب کے لیے برابر ہے۔









