37

ڈا کٹر رزاق صابر کی سا تھیو ں سمیت عدم با زیا بی پر تشویش ہے ، لشکر ئی رئیسانی

سینئر سیاستدان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور ان کے ساتھیوں کی عدم بازیابی اور پروفیسر غمخوار حیات کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ۔

کہ مادر وطن خون سے لت پت ہے، اساتذہ سے لیکر چرواہے تک اپنی ہی سرزمین جو ہماری پناہ گاہ، عز ت، ننگ وناموس کی ضامن ہے پر عدم تحفظ کے خوف کے سائے میں زندگی گزاررہے ہیں۔

اپنے ایک بیان میں نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہاکہ ہر قوم کیلئے اس کا وطن اس کی پناہ گاہ ہوتی ہے، بلوچستان صدیوں سے ہماری پناہ،عزت ننگ و ناموس کا دفا ع کرتا آرہاہے اس کی بنیادوں میں ہمارے قیمتی اکابرین،قبائلی رہنما، محنت کشوں اور چرواہوں کا خون شامل ہے۔

تاکہ آئندہ نسلیں باعزت زندگی گزارئیں مگر افسوس آج بلوچستان خون سے لت پت ہے اور لوگ اپنے ہی مادر وطن میں عدم تحفظ کا شکار ہیں،اساتذہ سے چرواہے تک کوئی محفوظ نہیں، انہوں نے پروفیسر غمخوار حیات کے بہیمانہ قتل کی مذمت اور ان کے خاندان سے دلی تعزیت وہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے ۔

کہ وہ قاتلوں کو گرفتار کرکے ان کو منظر عام پر لاکر انصاف کے تقاضے پورے کرے تاہم کئی دن گزرنے کے باوجود پروفیسر غمخوار حیات کے قاتل پکڑے نہیں جاسکے ہیں، انہوں نے قبائلی عمائدین سے مطالبہ کیاکہ وہ پروفیسر غمخوار حیات کے قاتلوں کو قبائلی طریقے سے منظر عام پر لائیں، انہوں نے پروفیسر عبدالرزاق صابر، پروفیسر ڈاکٹر منظور، پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمداور ڈرائیور حاتم کی عدم بازیابی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ۔

کہاکہ پروفیسر عبدالرزاق صابر اور ان کے ساتھی پروفیسر اپنے فرائض سرانجام دینے کے بعد گھر آتے ہوئے پراسرار طور پر لاپتہ ہیں، اساتذہ کا بہیمانہ قتل اور پراسرار گمشدگی لمحہ فکریہ ہے باشعور لوگ، طالب علم اساتذہ اوراپنے سماج،آئندہ نسلوں اور تاریخ سے محبت کرنے والے لوگ اس بات پر سوچیں کہ بلوچستان کو درپیش بحرانوں سے کیسے باہر نکالیں تاکہ ہماری موجودہ اور آئندہ نسلیں باعزت زندگی گزارئیں،، انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں والدین سے مطالبہ کیاکہ وہ اس بحران زدہ سرزمین کو علم کی روشنی سے روشن کرنے کیلئے اپنے بچوں کو اسکول، کالجز اور جامعات بھیجیں، انہوں نے طلبا سے مطالبہ کیاکہ وہ صوبے کو درپیش بحرانوں میں کمی لانے کیلئے تعلیمی ا داروں میں علم، قومی شعور اور پرامن جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں، انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ہمارے پروفیسر صاحبان جلد بازیاب ہوکر اپنی سرزمین کی خدمت کے تسلسل کو آگے بڑھائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں