جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ کوئٹہ کو رہزنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ نہیں سکتے، مولانا محمد شعیب جدون کو ہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے، مگر شہر میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیک پوسٹوں پر شہریوں کی تذلیل، بلاجواز روک ٹوک اور ہراسانی کا سلسلہ فوری بند کیا جائے، جبکہ اغبرگ، پنجپائی، ہنہ، نوحصار اور دیگر علاقوں کے پٴْرامن عوام کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر بلاجواز تنگ کرنے سے گریز کیا جائے اور متعلقہ قبائل کی جدی پشتی اراضی کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
رہنماؤں نے شہر میں منشیات فروشی، جسم فروشی کے اڈوں، غیر قانونی شیشہ پوائنٹس اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچانا حکومت اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے پولیس، بالخصوص ایگل اسکواڈ کی جانب سے ناکوں پر طلبائ اور نوجوانوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور رشوت وصول کرنے کی شکایات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرکے شہریوں کی عزتِ نفس اور بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے کوئٹہ میں دن کے اوقات میں گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کی بھی مذمت کرتے ہوئے گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا۔
جمعیت علمائ اسلام کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ عوام کے جان و مال، عزت، آزادی اور بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، لہٰذا حکومتی غفلت، انتظامی نااہلی اور عوامی مسائل سے چشم پوشی کا سلسلہ ختم کیا جائے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے اور عوام کو امن و سکون فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔









