گوادر کو وفا ق کے زیر انتظا م دینے کی کسی بھی فیصلے کو مستر د کر تے ہیں ، بی این پی

12

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق وفاقی وزیرآغا حسن بلوچ ایڈوکیٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ گوادر و بحرِ بلوچ پر مرکزی قبضہ گیری کی سوچ کسی صورت قبول نہیں بلوچ قوم اپنی سرزمین کے دفاع سے کبھی دستبردار نہیں ہوگی۔

گوادربحرِ بلوچ اور بلوچستان کی طویل ساحلی پٹی محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ بلوچ قوم کی ہزاروں سالہ تاریخ، قومی تشخص تہذیب ثقافت اور مستقبل سے جڑی ہوئی سرزمین ہے اس ساحلی خطے کی غیر معمولی جغرافیائی، معاشی اور جیوپولیٹیکل اہمیت اسے عالمی سطح پر ایک انتہائی اہم خطہ بناتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بلوچ قوم نے اپنی اس سرزمین کے دفاع کے لیے تاریخ کے مختلف ادوار میں بیرونی قوتوں اور قابض طاقتوں کے خلاف سخت مزاحمت اور جنگیں لڑی ہیں۔

موجودہ دور میں پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کے قیادت میں یہ جد تجھے جاری رہے گی۔

پارٹی نے کہا کہ بلوچ قوم نے اپنی تاریخ میں بے شمار مشکلات اور قربانیوں دیے لیکن اپنی قومی شناخت اپنی سرزمین اور اپنے تاریخی حق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا گوادر اور بحرِ بلوچ بلوچ قوم کیقومی وجود کا حصہ ہیں انہیں کسی انتظامی منصوبے، نئے یونٹ، مرکزی کنٹرول یا قبضہ گیری کی پالیسی کے ذریعے بلوچ عوام سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی اس امر کو واضح کرنا چاہتی ہے کہ گوادر، بحرِ بلوچ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی کو براہِ راست مرکزی حکومت کے کنٹرول میں لانے کی کسی بھی کوشش کو بلوچ قوم اور بلوچستان نیشنل پارٹی کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ اس نوعیت کے اقدامات انتظامی نہیں بلکہ بلوچ قوم کے تاریخی قومی اورجغرافیائی حقوق پر براہِ راست حملہ تصور کیے جائیں گے۔

پارٹی نے کہا کہ فارم 47 کی بنیاد پر قائم حکومتوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی خواہشات یا اقتدار کے وقتی مفادات کے تحت قوموں کی تاریخی سرزمین کے نقشے تبدیل کریں یا ان کے وسائل، ساحل اور جغرافیائی اہمیت کے حامل علاقوں پر مرکز کی بالادستی مسلط کی بلوچستان نیشنل پارٹی واضح کرتی ہے کہ گوادر اور بحرِ بلوچ کسی فرد، ادارے یا مرکز کی جاگیر نہیں۔

بلوچ سرزمین کے ساحل وسائل اور قومی تشخص کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ بلوچ عوام کی آزاد مرضی کے بغیر ناقابلِ قبول ہے بلوچ قوم نے اپنی سرزمین کے لیے ماضی میں قربانیاں دی ہیں اور اپنے قومی تشخص کے تحفظ کے لیے آئندہ بھی سیاسی قومی جہد جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں