حکومت بلوچستان نے محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور ممکنہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے متعدد پابندیاں عائد کر دیں۔محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حالیہ دہشت گردی کے واقعات، امن و امان کی صورتحال اور محرم کے دوران سکیورٹی خدشات کے باعث دفعہ 144 کے تحت صوبے بھر میں فرقہ وارانہ، اشتعال انگیز، نفرت آمیز اور عوامی امن کو متاثر کرنے والے مواد کی اشاعت، تقسیم، نمائش اور تشہیر پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اسلحہ اور گولہ بارود کی نمائش، لے جانے اور عوامی مقامات پر اس کے اظہار پر بھی پابندی ہوگی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مجاز حکام کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مشکوک اور ناپسندیدہ افراد کی نقل و حرکت محدود کرنے، حساس مقامات پر نگرانی بڑھانے اور عوامی مقامات، چوراہوں، جلوسوں اور مجالس کے راستوں پر پیشہ ور بھکاریوں کی موجودگی پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
ضلع کوئٹہ میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے۔ اسی طرح ضلع یا صوبے سے باہر سے لائے گئے لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کے لیے متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔محرم کے جلوسوں اور مجالس کے راستوں پر واقع عمارتوں کی چھتوں، بالکونیوں، کھڑکیوں اور دیگر بلند مقامات پر کھڑے ہونے یا اجتماع کرنے پر پابندی ہوگی، تاہم رہائشی افراد اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مجاز قرار دیے گئے افراد اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
نوٹیفکیشن میں ضلع کوئٹہ اور نصیرآباد ڈویژن میں دیواروں پر چاکنگ، پوسٹرز، بینرز، پمفلٹس، ہینڈ بلز اور دیگر تشہیری مواد آویزاں کرنے یا تقسیم کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پابندیاں یکم محرم الحرام سے 10 محرم الحرام تک نافذ العمل رہیں گی۔حکومت بلوچستان نے ڈپٹی کمشنرز، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیرات پاکستان اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔









