بلوچستان حکومت کی جانب سے مجوزہ صوبائی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی اور اس کے مضمرات پر غور کیلئے بلوچستان میڈیا ایکشن کمیٹی کا اجلاس پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں چیئرمین شہزادہ ذوالفقار کی زیرصدارت ہوا جس میںکوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید ، جنرل سیکرٹری ایوب ترین ، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین ، بلوچستان ایڈیٹرز کونسل کے صدر انور ساجدی ، جنرل سیکرٹری نادر حسین زمرد ، جرائد کونسل کے صدر عبدالغفار لانگو ، اخبار فروش یونین کے صدر حاجی غازی خان اور جنرل سیکرٹری میر احمد نے شرکت کی اجلاس میں طے پایا کہ صوبائی حکومت کی مجوزہ ڈیجیٹل پالیسی پر بلوچستان میڈیا ایکشن کمیٹی کو اعتماد میں لینے کیلئے جو لائحہ عمل گزشتہ اجلاس میں ترتیب دیا گیا تھا اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے جلد متعلقہ حکام سمیت وزیراعلیٰ اور صوبائی پارلیمانی جماعتوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا اورچارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیاجائے گا اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی میں ڈیجیٹل میڈیا کی تعریف انتہائی ضروری ہے جن اخبارات کے ویب سائٹس اور آن لائن ایڈیشنز موجود ہیں انہیں ڈیجیٹل میڈیا میں شامل کیا جائے جبکہ ایسے ویب سائٹس ، ویب پیج اور آن لائن ایڈیشن کو ڈیجیٹل میڈیا پالیسی میں شامل کیا جائے جو باقاعدہ صحافتی اصولوں ، قواعد و ضوابط اور پیشہ ورانہ صحافت کے لوازمات پر پورا اترتے ہوں اور میڈیا ادارے کل وقتی اسٹاف بھی رکھتے ہوں اجلاس میں ایک مکمل اخبار کیلئے درکار ضروری لوازمات و نکات کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی جس کے مطابق اخبار اور ان کے ڈیجیٹل میڈیا کے کیلئے نیوز ایڈیٹر، سب ایڈیٹرز ،باقاعدہ اور کل وقتی رپورٹرز ، فوٹو گرافر ، ایک دفتر ،کم ازکم 2 نیوز ایجنسیوں کی سروسز ، مکمل انٹرنیٹ سسٹم ،پریس اور پرنٹنگ پریس ،ایڈیٹرز ، رپورٹرز ، فوٹو گرافرز اور دیگر سٹاف کو باقاعدہ تقررناموں کا اجراء اور انہیں ویج بورڈ ایوارڈ کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی ،اخبار کی اندرون بلوچستان ترسیل ،اخبار کی باقاعدہ ویب سائٹس ، ای میل اور آن لائن سروس ہو انہیاخبارات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ایک مکمل میڈیا ہاؤس تصور کیا جائے گااجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ اخبارات کیلئے اشہاری بجٹ کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کیلے بھر پور جدوجہد کی جائے گی۔
15









