ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات اور کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر عوام، ٹرانسپورٹرز، بسوں اور مال بردار گاڑیوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ تفتان بارڈر سے کوئٹہ اور ملک کے دیگر حصوں تک مال بردار گاڑیوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے جلد کانوائے سسٹم شروع کیا جائے گا۔
یہ بات انہوں نے ایوانِ صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان میں آل بلوچستان بزنس الائنس اینڈ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران اور اراکین کے ساتھ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی، ایل پی جی ایسوسی ایشن کے سید عتیق آغا، گڈز ٹرک ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد نور شاہوانی، مرکزی انجمن تاجران کے صدر عبد الرحیم کاکڑ، بس ایسوسی ایشن کے میر دولت لہڑی، پنجگور کے ٹرانسپورٹر حاجی اکرم، حاجی حبیب اللہ بادیزئی سمیت دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ٹرانسپورٹرز اور تاجر برادری نے بلوچستان کی مختلف شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں، ایل پی جی باؤزرز اور بسوں کو نذرِ آتش کیے جانے، لوٹ مار کے بڑھتے ہوئے واقعات اور پلوں کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حکومت شاہراہوں پر مؤثر سیکیورٹی یقینی بنائے تاکہ ٹرانسپورٹرز، مسافروں، امپورٹرز، ایکسپورٹرز اور عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کو موجودہ صورتحال کا مکمل ادراک ہے اور شاہراہوں پر سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت کے لیے جلد کانوائے سسٹم نافذ کیا جائے گا، جبکہ سیکیورٹی انتظامات میں پاک فوج، ایف سی، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صرف ایک یا دو شاہراہوں نہیں بلکہ صوبے کی تمام اہم شاہراہوں پر عوام، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ان علاقوں میں بھی جلد کارروائیاں کی جائیں گی جہاں گاڑیوں کو جلانے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ ہفتہ کے روز بس ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے ساتھ علیحدہ اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا تاکہ ان کے مسائل سنے جا سکیں۔ اس موقع پر قلات میں جاں بحق افراد اور پشین میں ایک ہی خاندان کے سات افراد کی ہلاکت کے متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے فوری اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر حکام نے ٹرانسپورٹرز اور بزنس کمیونٹی کے مختلف سوالات کے جوابات دیے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے شاہراہوں پر امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔









