بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی انسپیکشن ٹیموں نے خوراک کے بہتر معیار کو یقینی بنانے کے لیے کوئٹہ، دالبندین، پنجگور، ڈیرہ اللہ یار، خضدار، پشین، حب اور سبی میں کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 14 کھانے پینے کے مراکز پر جرمانے، ایک غیر رجسٹرڈ واٹر پیوریفیکیشن پلانٹ سیل جبکہ 53 اصلاحی نوٹسز جاری کیے۔
کارروائیوں کے دوران جنرل اسٹورز، نان شاپس، پکوڑا و سموسہ شاپس، ریسٹورنٹس، بیکنگ یونٹس، فاسٹ فوڈ پوائنٹس اور واٹر پلانٹس کا معائنہ کیا گیاجہاں صفائی، فوڈ سیفٹی ایس او پیز، لیبلنگ، اسٹوریج، رجسٹریشن اور ورکرز کی ذاتی صفائی سے متعلق مختلف خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق کوئٹہ کے نواں کلی، ایئرپورٹ روڈ، طوغی روڈ، کاسی روڈ، علمدار روڈ، اسپنی روڈ اور اے ون سٹی میں کارروائیوں کے دوران ایک غیر رجسٹرڈ واٹر پلانٹ کو لیبارٹری رپورٹس، رجسٹریشن، مناسب لیبلنگ اور حفظانِ صحت کے تقاضے پورے نہ کرنے پر سیل کر دیا گیا جبکہ پانچ دیگر مراکز مالکان کو ناقص صفائی، غیر معیاری اسٹوریج، ایکسپائرڈ اشیاء کی موجودگی اور دیگر خلاف ورزیوں پر جرمانہ کیا گیا۔
علاوہ ازیں پشین میں ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ دودھ میں ملاوٹ کے خلاف مشترکہ کریک ڈاؤن کے دوران متعدد مراکز کا معائنہ کیا گیا, اس دوران دودھ دہی میں ملاوٹ پر 4 مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے۔ اسی طرح جبکہ دالبندین میں ریسٹورنٹس، نان شاپس اور جنرل اسٹورز کے خلاف صفائی کی خراب صورتحال، ممنوعہ اشیاء اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
دوسری جانب بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے ہزارہ ٹاؤن، کوئٹہ میں سیوریج کے پانی سے سیراب 24 ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی مضرِ صحت سبزیوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کرتے ہوئے ٹماٹر، بند گوبھی، کدو اور ہری پیاز سمیت مختلف فصلیں تلف کر دیں جبکہ آلودہ پانی کے زرعی اراضی تک پہنچنے کے تمام راستے بھی بند کر دیے گئے۔ ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے واضح کیا کہ انسانی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اس ضمن میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ محفوظ و معیاری خوراک کے فروغ کے لیے ادارے کے ساتھ تعاون کریں۔









