نوشکی گرلز کالج پر حملہ قابل مذمت، طالبات کو تعلیم سے دور رکھنے کی سازش کسی صورت قبول نہیں، بی ایس او

25

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے نوشکی گرلز کالج میں نقاب پوش مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ، طالبات کو زخمی کرنے، پرنسپل آفس میں توڑ پھوڑ اور سی سی ٹی وی کیمروں کو نقصان پہنچانے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے میں گھس کر طالبات کو نشانہ بنانا ایک انتہائی شرمناک اور قابلِ افسوس عمل ہے۔ تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کے واقعات نہ صرف طالبات، اساتذہ اور تعلیمی ماحول کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بھی بنتے ہیں۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کی تعلیم پہلے ہی مختلف سماجی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے، ایسے میں گرلز کالج پر حملہ اور طالبات کو خوف زدہ کرنے کی کوشش انہیں تعلیم سے دور رکھنے کی ایک سازش کے مترادف ہے۔ بلوچ معاشرے میں خواتین کی تعلیم اور شعور کی اہمیت مسلمہ ہے، اور کسی بھی فرد یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ طاقت اور خوف کے ذریعے طالبات کے تعلیمی مستقبل کو نقصان پہنچائے۔ ایسے واقعات کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور ان کے خلاف بھرپور آواز اٹھانا ضروری ہے۔

بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کی فوری نشاندہی کرکے انہیں گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔ زخمی طالبات کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ طالبات بلا خوف و خطر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں