14

مہنگی درآمدی گندم رعایتی نرخوں پر بیچنے کی منظوری، 22 ارب روپے نقصان کا اندیشہ

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاسکو کو 5 لاکھ ٹن گندم نیلام کرنے اور پنجاب کو 3 لاکھ ٹن گندم فراہم کرنیکی اجازت دیدی ہے۔ نیلام کی جانیوالی گندم میں 3 لاکھ ٹن مہنگی درآمدی گندم بھی شامل ہے جو سبسڈائزڈ نرخوں پر فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے اس فیصلے سے خزانے کو20.5 ارب سے22 ارب روپے مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔

کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہوا۔2022 میں 294,994 میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی تھی جو پاسکو کے گوداموں میں پڑی ہے جبکہ پاسکو کا ادارہ ختم کیا جا رہا ہے۔

ای سی سی نے پاسکو گندم کے 5 لاکھ ٹن اسٹاک کو مسابقتی بولی کے ذریعے نیلام کرنے کی منظوری دی، جس کا مقصد فاضل ذخیرے کو ٹھکانے لگانا، ذخیرہ کرنے کے اخراجات کم کرنا اور مقامی گندم مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام، فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

فنانس ڈویژن نے مقامی گندم کیلیے 4,742 روپے فی 40 کلوگرام اور درآمدی گندم کیلیے 6,425 روپے فی 40 کلوگرام ریزرو قیمت مقرر کرنے کی تجویز دی تھی۔

تاہم ای سی سی نے مقامی گندم کیلئے 4,400 روپے اور درآمدی گندم کیلئے4,070 روپے کی ریزرو قیمت کی منظوری دی۔

اس قیمت پر درآمدی گندم کی فروخت سے خزانے کو 2,355 روپے فی چالیس کلو گرام کا نقصان برداشت کرنا پڑیگا۔

ای سی سی کو بتایا گیا کہ ان قیمتوں کی بنیاد پر 5 لاکھ ٹن گندم کو ٹھکانے لگانے پر 20.5 ارب روپے سے لے کر 22 ارب روپے تک کے مالی خسارے کا اندیشہ ہے۔

تاہم اس مقدار میں گندم ذخیرہ کرنے کی سالانہ لاگت11 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ پاسکو کے پاس مجموعی طور پر20 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے اور گزشتہ ماہ وفاقی کابینہ نے اس ادارے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس فیصلے سے وفاقی حکومت کی ناقص معاشی اور تجارتی منصوبہ بندی کی نشاندہی ہوتی ہے جس نے پہلے مہنگی گندم درآمد کی اور اب اسے سبسڈی کے ساتھ بیچا جا رہا ہے۔

اب وزارت خزانہ گندم کے ذخیرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے تقریباً 20 ارب روپے کی سبسڈی دے گی، جس میں 9 ارب روپے فوری ادا کئے جائیں گے۔

ای سی سی کو بتایا گیا کہ پاسکو کے پاس 2022 سے اب تک 294,994 میٹرک ٹن درآمدی گندم کا سٹاک موجود ہے جو کہ تازہ آمد کے مقابلے میں اپنی مارکیٹ ویلیو کو بتدریج کھو رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں