بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے صوبے کے عوام کے لیے ایک انقلابی اور مہیب عوامی ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے گھریلو صارفین کو ماہانہ 600 یونٹ تک بجلی بالکل مفت فراہم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
توانائی کی نئی پالیسی کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے کہا کہ اس عوامی ریلیف اقدام کا بنیادی مقصد عام اور متوسط طبقے کے صارفین پر پڑنے والے معاشی بوجھ کو براہِ راست کم کرنا ہے۔
نئی پالیسی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ حکومت نے صارفین پر برقی آلات کے استعمال کے حوالے سے کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق، اس پالیسی کے تحت گھریلو صارفین اپنی ضرورت اور شدید گرمی کے موسم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایئر کنڈیشنر (AC)، فرج اور دیگر تمام بھاری برقی آلات بلا جھجھک استعمال کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا مجموعی استعمال مقررہ یونٹس کی حد کے اندر رہے۔
سیاسی مخالفین کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اس اسکیم کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ عام عوام کو تو مفت بجلی کی سہولت میسر ہوگی، لیکن ریاستی حکومت نے ایسے ٹھوس انتظامات بھی کیے ہیں جن کی بدولت بجلی کا سرکاری محکمہ (پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی) کسی قسم کے مالی خسارے یا دیوالیہ پن کا شکار نہیں ہوگا۔ اس پالیسی کے لیے فنڈز کی فراہمی کو صوبائی بجٹ میں خصوصی طور پر مینیج کیا گیا ہے۔









