نیشنل پارٹی وحدت بلوچستان کے ورکنگ کمیٹی کا دوروزہ اجلاس پارٹی کے صوبائی صدر چیئرمین اسلم بلوچ کوئٹہ میں شروع ہوا۔
پہلے روز کے اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں اسلم بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کا جینا دوبھر ہوچکاہے بیروزگاری ، بدامنی سیاسی و معاشی عدم استحکام کے باعث لوگ نان شبینہ کا محتاج ہوگئے ہیں ایسی صورتحال میں اپنے ساحل وسائل کا تحفظ منظم سیاسی جماعت کے بغیر ممکن نہیں ایسی صورٹحال میں عوام کا واحد سہارا نیشنل پارٹی ہے جس کو گھر گھر جاکر منظم کرنا ہوگا۔
اسلم بلوچ نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ بلوچستان کے عوام کا واحد ذریعہ معاش تھاجسے بند کرکے لاکھوں لوگوں کو نہ صرف نان شبینہ کا محتاج بنایا بلکہ ہزاروں بچے اسکولوں سے فارغ ہوگئے اور پورے علاقہ میں بدترین سماجی مسئلہ بن چکا ہے ، سیاسی نمائندگی چھیننے کے بعد اب وسائل چھینے جارہے ہیں اس سے احساس محرومی اوربدامنی میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے ،
اجلاس جمعہ کے روز بھی جارہے رہے گا پہلے روز کے اجلاس سے بلوچستان اسمبلی میں پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر رحمت صالح بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی بلوچستان کے عوام کے قومی و سیاسی و معاشی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریگی مائنز اینڈ منرلز بل پر حسب وعدہ اگر ترمیمی بل نہیں لایا تو اپوزیشن کے ساتھ مل کر پراہیویٹ بل لاہینگے،
اجلاس سے رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کبھی بھی بلوچستان کے مسائل کو سنجیدہ نہیں لیا کسی قومی وحدت کو کب تک اس کے آہینی حقوق سے محروم رکھاجاسکتا ہے آج بھی یہی صورتحال ہے کہ ناانصافی و اسٹحصال بڑے پیمانے پر جاری ہے ، اجلاس میں مختلف اضلاع کے نمائندوں نے اپنے اپنے ریجن اور اضلاع کی رپورٹ پیش کی اجلاس جمعہ کو بھی جاری رہیگا









