رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بریفنگ دیتے ہوئے ملک میں ڈیجیٹل پیمنٹس کے نظام کی ترقی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے موجودہ ڈھانچے، کامیابیوں اور ابھرتے ہوئے رجحانات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب 88 فیصد ریٹیل ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل طور پر انجام دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اس وقت 22 کروڑ 60 لاکھ اکاؤنٹس اور 4 کروڑ 60 لاکھ راست آئی ڈیز کی سہولت فراہم کر رہا ہے، لین دین کی مالیت میں اضافے اور سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں بینک لائیبیلٹی فریم ورک اور فراڈ کم کرنے کے لیے 2 گھنٹے کا ’کولنگ آف پیریڈ‘ شامل ہے۔
جمیل احمد نے بتایا کہ مشرق بینک کے ڈیجیٹل آپریشنز پاکستان میں کامیابی کے ساتھ شروع ہو گئے ہیں اور یہ منصوبہ صرف 12 ماہ میں مکمل ہوا، جبکہ عام طور پر دیگر ممالک میں اس میں 5 سال لگتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ پانچ نئے ڈیجیٹل بینکوں کو بھی آپریشن شروع کرنے کے لیے ابتدائی منظوری دی جا چکی ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے تسلیم کیا کہ ترقی کے باوجود مالیاتی خواندگی کی کم سطح اور ریگولیٹری خامیاں اب بھی چیلنج ہیں، تاہم انہوں نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ اسٹیٹ بینک ان مسائل کے حل اور ایک محفوظ، جامع اور جدید ڈیجیٹل پیمنٹس نظام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔









