سانحہ زیارت کی شفاف تحقیقات اور دہشتگردوں کا خاتمہ کیا جائے، آل پارٹیز

28

آل پارٹیز انجمن تاجران اور سول سوسائٹی کے زیرِ اہتمام سانحہ زیارت اور سانحہ ہنہ اوڑک کے خلاف ضلع لورالائی ضلع پشین اور ضلع قلعہ سیف اللہ میں بڑے احتجاجی اجتماعات اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔

احتجاج میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کارکنوں تاجر تنظیموں سماجی کارکنوں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی احتجاجی اجتماعات میں آل پارٹیز اتحاد اور کوئلہ پھاٹک دھرنا کمیٹی کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ بلوچستان باالخصوص پشتون بیلٹ میں دہشت گردی انتہا پسندی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری اغوا برائے تاوان اور قبضہ گیری جیسے سنگین جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ صوبائی و وفاقی حکومت اور متعلقہ ریاستی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام دکھائی دیتے ہیں ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کا قیام ہے عوام اپنی خون پسینے کی کمائی سے مختلف مدات میں ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

لہٰذا حکومت پر لازم ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرے انہوں نے کہا کہ عوام مسلح جتھے یا لشکر بنانے کے حق میں نہیں تاہم اگر ریاست اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہتی ہے تو عوام میں شدید بے چینی پیدا ہوگی اور وہ اپنے تحفظ کے لیے متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبورہوں گے احتجاجی اجتماعات سے خطاب کرنے والے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ زیارت اور سانحہ ہنہ اوڑک کی آزادانہ غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں واقعات میں ملوث اور غفلت کے مرتکب کرداروں کو بے نقاب اور ان عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے جبکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور مکمل تحفظ فراہم کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ آل پارٹیز اتحاد متاثرہ خاندانوں اور کوئلہ پھاٹک دھرنا کمیٹی کے تمام جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں اگر حکومت نے عوامی مطالبات پر سنجیدگی سے عمل درآمد نہ کیا تو احتجاجی تحریک کو صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی اور آئندہ کے لائحہ عمل میں مزید سخت فیصلے کیے جائیں گے۔

جن کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی اس سے قبل مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی شرکا نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

جن پر دہشت گردی کے خاتمے امن کے قیام عوام کے جان و مال کے تحفظ اور سانحہ زیارت کی شفاف تحقیقات کے حق میں نعرے درج تھیمظاہرین نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

احتجاجی اجتماعات کے اختتام پر امن کے قیام دہشت گردی کے خاتمے شہدا کے درجات کی بلندی زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی جس کے بعد احتجاج پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں