بجٹ میں محکمہ تعلیم کے بجٹ میں پندرہ فیصد اضافے کے بعد 144 ارب روپے مختص

13

صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب احمد نوشیروانی نے گزشتہ روز کو بلوچستان اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومت بلوچستان نے شعبہ تعلیم کے لیے مجموعی طور پر 144 ارب روپے مختص کیے ہیں،

جو گزشتہ مالی سال کے 125 ارب روپے کے مقابلے میں 15 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم کا فروغ سرفہرست ہے اور صوبے بھر میں معیاری تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مجموعی تعلیمی بجٹ میں سے 115 ارب روپے سکول ایجوکیشن کے لیے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں مختلف اضلاع کے سکولوں کی بہتری کے لیے ون ٹائم گرانٹس جاری کی گئی ہیں،

جن کے تحت بلیدہ فانڈیشن سکول کے لیے 10 ملین روپے جبکہ تعلیم فانڈیشن کے لیے 20 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح پرائمری سکولوں کو مڈل اور مڈل کو ہائی سکولوں میں اپ گریڈ کرنے کے لیے 8 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کے ملازمین کے لیے ڈیتھ کمپنسیشن گرانٹ کو 30 ملین روپے سے بڑھا کر 100 ملین روپے کر دیا گیا ہے،

جبکہ کلسٹر بجٹ کو 2.5 ارب روپے سے بڑھا کر 2.9 ارب روپے کیا گیا ہے اور اس کے شفاف استعمال کے لیے نئی پالیسی متعارف کرائی گئی ہے۔ اسی طرح شہید بے نظیر بھٹو سکالرشپ کے لیے 14 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 میں سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لیے 3 ہزار نئی آسامیاں بھی تخلیق کی گئی ہیں۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق سکول ایجوکیشن کے لیے 12 ارب روپے ترقیاتی اور 115 ارب روپے غیر ترقیاتی مد میں مختص کیے گئے ہیں۔میر شعیب احمد نوشیروانی نے کہا کہ اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے کالجز، ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے شعبے کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جو 24 ارب روپے سے بڑھ کر 28 ارب روپے ہو گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے لیے 8 ارب روپے کی گرانٹ برقرار رکھی گئی ہے جبکہ کارکردگی پر مبنی (KPIs) فنڈنگ کے لیے 2 ارب روپے اضافی تجویز کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کالجز کے طلبہ کے لیے 105.8 ملین روپے سکالرشپس مختص کیے گئے ہیں جن میں 54 ملین روپے شہید بے نظیر بھٹو سکالرشپ شامل ہیں۔

اسی طرح NUST یونیورسٹی کے لیے 200 ملین روپے، کالجز کی ضروریات کے لیے 1 ارب روپے اور طلبہ کے لیے بسوں کی فراہمی کی مد میں 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 2026-27 میں محکمہ کالجز، ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لیے 2.3 ارب روپے ترقیاتی اور 28.7 ارب روپے غیر ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ .انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ذریعے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید سہولیات اور بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں