سپریم کورٹ میں خاتون کو وراثتی جائیداد کے کیس میں نصف صدی بعد ریلیف مل گیا

32

سپریم کورٹ میں خاتون کو وراثتی جائیداد کے کیس میں نصف صدی بعد ریلیف مل گیا۔

وراثتی جائیداد سے نصف صدی تک محروم رہنے والی ڈیرہ اسماعیل خان کی زیتون بی بی کو سپریم کورٹ سے حتمی ریلیف ملا ہے۔

عدالت نے مخالف فریق کی درخواست مسترد کرتے ہوئے زیتون بی بی کے حق میں 2022 کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دے دیا۔

جسٹس منیب اختر، جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل بینچ کا فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا۔

سپریم کورٹ نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالتی نظام کی بنیاد یقین، نظم و ضبط اور عدالتی احکامات کی حرمت پر ہے، ان کی پابندی ہر صورت لازم ہے۔

زیتون بی بی کے والد 1976 میں انتقال کرگئے تھے اور وہ تب سے وراثتی جائیداد سے محروم تھیں۔ سپریم کورٹ مخالف فریق کی نظرثانی بھی 2024 میں خارج کرچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں