ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جنگی پالیسی کو دھچکا

43

واشنگٹن میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوان جیت لیے۔ اسرائیل میں نیتن یاہو کا اتحاد اکثریت سے محروم رہا۔ یہ نتائج غزہ اور ایران کے جنگ زدہ لوگوں کے لیے ایک اخلاقی فتح ہیں۔ ان کا مطالبہ اب واشنگٹن کی سیاست میں زیادہ وزن رکھتا ہے۔ جنگ روکی جائے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات اور اسرائیلی پارلیمان کے نتائج کو غزہ کے ایک بے گھر خاندان کی نظر سے دیکھیے۔ واشنگٹن میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی اور اسرائیل میں بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ غزہ میں اس خاندان کو اب پانی، دوا اور محفوظ چھت کی تلاش ہے۔ پھر بھی ان نتائج کی اہمیت ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جنگی شراکت داری کو اپنے ملکوں میں سیاسی دھچکا لگا ہے۔ اسے فلسطینیوں، اہلِ غزہ اور ایرانی عوام کی اخلاقی فتح کہنا بجا ہے۔ ان کی تکلیف اور جنگ روکنے کا مطالبہ اب ان حکومتوں کی داخلی سیاست میں بھی وزن رکھتا ہے۔

ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ چار سو پینتیس رکنی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کے لیے 218 نشستیں درکار تھیں۔ بیلٹ پیڈیا کے ابتدائی شمار میں ڈیموکریٹس کی 231 اور ریپبلکنز کی 141 نشستیں رپورٹ ہوئیں۔ سینیٹ میں اسی مرحلے پر ڈیموکریٹک صف بندی کو 54 اور ریپبلکنز کو 44 نشستیں حاصل تھیں۔ باقی نشستوں کی گنتی جاری تھی۔ ٹرمپ کی صدارت برقرار ہے، مگر اب ان کی انتظامیہ کو جنگ کے اخراجات، اسلحے کی فراہمی اور فوجی فیصلوں پر ایسی کانگریس کا سامنا ہوگا جس کے دونوں ایوان ان کی جماعت کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔

امریکی ووٹر اپنے ساتھ کئی سوال لے کر پولنگ اسٹیشن پہنچے۔ مہنگائی اور حکومتی بدعنوانی پر تشویش نمایاں تھی، جبکہ ایران جنگ اور ایندھن کی قیمتیں بھی انتخابی بحث کا حصہ بنیں۔ اکتوبر میں پیو ریسرچ سینٹر کے سروے میں صرف 33 فیصد امریکی بالغوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو ٹرمپ کے سنبھالنے کے انداز کی تائید کی۔ امریکی شہری کی پٹرول کی رسد اور ایرانی شہری کی اپنے گھر کی سلامتی کے بارے میں فکر دو الگ تجربے ہیں۔ دونوں ایک ہی فیصلے کی قیمت دکھاتے ہیں۔ اس بار ووٹوں میں یہ آواز بھی سنائی دی کہ بیرونِ ملک محاذ کھولنے والی حکومت اپنے شہریوں کو اس کے مقصد اور انجام کا جواب دے۔

تہران میں ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی نتیجے کو جنگ کے خلاف پیغام قرار دیا۔ ایرانی قیادت کا یہ مؤقف کہ فوجی دباؤ سے دیرپا سیاسی حل مسلط نہیں کیا جا سکتا، امریکی رائے عامہ میں جنگ کی مخالفت کے بعد زیادہ وزن رکھتا ہے۔

امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ انتخابات سے پہلے دوحہ میں قطری ثالثوں کے ذریعے جنگ ختم کرنے کی کوششیں جاری رہیں، مگر کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ایرانی عوام کے لیے اس موقع کی قدر تب ہوگی جب حملوں کا خطرہ کم ہوگا اور مذاکرات میں ان کی سلامتی کو جگہ ملے گی۔

مشی گن میں ڈیموکریٹ عبدالرحمان محمد السید نے ریپبلکن مائک راجرز کو شکست دی۔ مصری نژاد السید امریکی تاریخ میں وفاقی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ہیں۔ انتخابی مہم میں ٹرمپ اور دیگر ریپبلکن رہنماؤں نے ان کی وفاداری پر سوال اٹھائے اور انہیں ایسے گروہوں سے جوڑنے کی کوشش کی جس کے لیے کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ کامیابی کی تقریر میں السید نے پورا نام بتایا اور کہا کہ اب ’’ان شاء اللہ‘‘ کو ’’الحمدللہ‘‘ میں بدل سکتے ہیں۔ اسرائیلی پالیسی پر ان کی تنقید بھی اسی مہم کا حصہ رہی۔ مشی گن کے ووٹروں نے ان مؤقفوں کے ساتھ انہیں سنا۔

الینوائے میں ڈیموکریٹ نبیلہ سید نے ریاستی سینیٹ کے حلقہ 26 میں ریپبلکن ڈاربی ہلز کو شکست دی۔ رپورٹ شدہ گنتی میں نبیلہ کو 57 فیصد اور ہلز کو 43 فیصد ووٹ ملے۔ نبیلہ 2022 میں الینوائے کی ریاستی اسمبلی کے ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہونے والے اولین مسلمان ارکان میں شامل تھیں۔
اسرائیل میں 120 رکنی کنیسٹ کے لیے لیکوڈ نے 27 اور گاڈی آئزنکوٹ کی یشار پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کیں۔

نیتن یاہو کا بلاک 53 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑا رہا، مگر اکثریت کے لیے 61 درکار ہیں۔ مخالف بلاک کو 48 اور عرب جماعتوں کو 19 نشستیں ملیں۔ نیتن یاہو کے پاس اب بھی حکومت سازی کی کوشش کا موقع ہے، مگر انہیں اپنے بلاک سے باہر حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ آئزنکوٹ کے بلاک کی نشستیں بھی اپنے طور پر حکومت بنانے کے لیے کم ہیں۔ عرب جماعتوں کی نمائندگی اس پارلیمان کی اہم ہے۔ حکومت سازی کی بحث میں ان شہریوں کے سیاسی مطالبات بھی توجہ کے مستحق ہیں جن کے نمائندے یہ نشستیں جیت کر آئے ہیں۔

غزہ میں اس خبر کو پرکھنے کا پیمانہ سخت ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے اکتوبر کے آخر میں بے گھر خاندانوں کے خیموں میں آگ لگائے جانے کی اطلاع دی۔ اس نے شمالی غزہ میں بجلی کی عدم دستیابی اور غیر محفوظ رسائی کے باعث بارشی پانی نکالنے کے ایک نظام کے مفلوج ہونے کا ذکر بھی کیا۔ موسمِ سرما میں اس کا خطرہ قریب آباد بے گھر خاندانوں کو ہے۔

ادھر فروری کے گیلپ سروے میں 41 فیصد امریکیوں نے فلسطینیوں اور 36 فیصد نے اسرائیلیوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی ظاہر کی۔ اہلِ غزہ کی اخلاقی فتح اسی بدلتی سماعت میں ہے۔ اس ہمدردی کا امتحان امداد کی رسائی اور شہری جانوں کے تحفظ پر ہونے والے فیصلوں میں ہوگا۔

امن کی حمایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایرانی، فلسطینی، اسرائیلی اور امریکی شہری کی جان ایک ہی انسانی قدر رکھتی ہے۔ غزہ کے مسلمانوں کے لیے انصاف مانگنے والا شخص اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے۔ ایران پر جنگ مسلط کرنے کی مخالفت کے ساتھ تہران سے بھی شہریوں کی سلامتی کو مقدم رکھنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ جنگی فیصلوں کا حساب متعلقہ حکومتوں سے مانگنا چاہیے۔ کسی مذہب یا قوم کو ان فیصلوں کا اجتماعی ذمے دار ٹھہرانے سے ان لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں جو اپنے بچوں کے لیے ایک جیسا محفوظ مستقبل چاہتے ہیں۔

واشنگٹن میں اس ووٹ کی عملی قدر اس وقت دکھائی دے گی جب کانگریس پوچھے گی کہ ایران میں فوجی کارروائی کا مقصد کیا ہے، اس کی حد کیا ہے اور اسے ختم کرنے کا سفارتی راستہ کہاں ہے۔ اسرائیل میں حکومت سازی کے مذاکرات کا ایک سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ غزہ میں شہریوں کے تحفظ اور امداد کی رسائی کی ضمانت کون دے گا۔ ایرانی قیادت کے پاس جنگ مخالف امریکی رائے کو مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کا موقع ہے۔ جنگ کسی قوم کے مفاد میں نہیں۔ غزہ کا بچہ جب اسکول واپس جا سکے اور ایرانی خاندان نئے حملے کے اندیشے کے بغیر سو سکے، تب ان انتخابی نتائج کی اخلاقی فتح زندگی میں محسوس ہوگی۔

انتخابی نتائج نے جنگ روکنے کی سفارت کاری کو نئی گنجائش دی ہے۔ پاکستان اس موقع پر پہل کر سکتا ہے۔ اسلام آباد نے قطر کے ساتھ مل کر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی ہے۔ اب دونوں ثالث واشنگٹن اور تہران سے جنگ بندی کی شرائط، ان پر عمل کی نگرانی اور کسی خلاف ورزی کی صورت میں فوری رابطے کا طریقہ طے کرا سکتے ہیں۔ سعودی عرب، ترکی اور عمان اس کوشش کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

غزہ کے لیے الگ سفارتی کوشش درکار ہے، جس میں فلسطینیوں کی براہِ راست نمائندگی ہو۔ مصر، قطر، یورپی ممالک اور اقوام متحدہ آگے بڑھیں اور مستقل جنگ بندی، امداد کی بلا رکاوٹ رسائی اور بے گھر خاندانوں کی محفوظ واپسی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ اسپتالوں، اسکولوں اور پانی کے نظام کی بحالی کے لیے مالی وعدوں کے ساتھ واضح مدت مقرر ہو۔

پاکستان کی ثالثی کی قدر تب سامنے آئے گی جب مذاکرات سے شہریوں پر حملوں کا خطرہ کم ہوگا۔ امن کی حمایت کرنے والی حکومتوں کو اس کام میں حصہ لینا چاہیے۔ غزہ اور ایران کے خاندانوں کے لیے فتح تب ہوگی جب وہ اپنے گھروں میں محفوظ ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں