دینی مدارس دینی ملی و تہذیبی شناخت کے محافظ ،کسی دباؤ یا سازش کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا،مولانا عبدالرحمن رفیق

40

جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق نے مختلف دینی مدارس کی دستارِ فضیلت کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینی مدارس نے نسلِ نو کو علم و شعور سے روشناس کرانے اور اخلاق و تہذیب کے زیور سے آراستہ کرنے میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔ دینی مدارس کے بغیر معاشرہ نامکمل اور تہذیبی و اخلاقی بنیادوں سے محروم ہے۔

انہوں نے کہا کہ انگریز سامراج نے برصغیر میں علماء، دینی مدارس اور اسلامی تعلیمات کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن سازش کی مگر اسے ذلت و رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ آج انگریز سامراج کے زرخرید غلام حکمران اسی استعماری ایجنڈے کی پیروی کرکے اپنی رسوائی کا سامان کر رہے ہیں۔

دینی مدارس کے خلاف سازشیں کرنے والے عناصر یاد رکھیں کہ یہ ادارے ہماری دینی ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں جنہیں کسی دباؤ یا سازش کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ علماء مدارس اور مساجد سے نوجوان نسل کی دوری کے باعث وہ مختلف فکری اخلاقی اور سماجی سازشوں کا شکار ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں علماء کرام کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تربیتطدینی رہنمائی اور کردار سازی کے لیے اپنی جدوجہد تیز کریں تاکہ انہیں باطل نظریات اور غیروں کے فکری تسلط سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کی تعلیمات کے فروغ معاشرتی اصلاح اور امت کی فکری و نظریاتی رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان کی سرپرستی تحفظ اور استحکام پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں