فیک نیوز میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، معاون برائے اطلاعات وزیراعلی بلوچستان شاہد رند

41

وزیر اعلی بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ فیک نیوز ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے تدارک کے لیے کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے، اگر کوئی شخص فیک نیوز پھیلانے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، وزیراعلیٰ ہائوس واداروں سے متعلق فیک خبر پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)کو درخواست بھی دے دی گئی ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شاہد رند نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین روز کے دوران ایک خبر کے حوالے سے بہت زیادہ بحث ہوئی ہے تاہم کابینہ اجلاس کے بعد ہونے والی بریفنگز میں متعدد بار حکومت بلوچستان کی جانب سے واضح کیا جا چکا ہے کہ فیک نیوز ایک بڑا مسئلہ ہے، حکومت کو جب بھی کسی معاملے پر شکایت ہوتی ہے تو وہ اسے پریس کلب اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے ساتھ بھی شیئر کرتی ہے۔

صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے شاہد رند کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا تاہم صحافت کے نام پر کسی کی کردار کشی قابل قبول نہیں، اس سے قبل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام سیمینار میں واضح کیا کہ اگر کسی کی کردار کشی ہوتی ہے تو اس کیلئے کوئی فورم ہوناچاہیے اورپیکا قانون اسی مقصد کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ اس طرح کے معاملات سے نمٹا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں نجی ٹی وی چینلز اور مین اسٹریم میڈیا کے حوالے سے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے)اور کوئٹہ پریس کلب کی جانب سے حکومت بلوچستان کے سامنے جو معاملہ اٹھایا گیا ہے اس پر حکومت نے اپنی بساط کے مطابق کام کیاہے ، پرائیویٹ ٹی وی چینلز حکومت کے براہ راست دائرہ اختیار میں نہیں آتے تاہم اس حوالے سے اخلاقی طور پر اپنا کردار ادا کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں