چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے، عوامی خدمات کی فراہمی میں شفافیت یقینی بنانے اور شہریوں کی شکایات ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
چیف سیکریٹری کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنرز کی کانفرنس میں ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی نگرانی، غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی، عوامی شکایات کے ازالے اور بلدیاتی اداروں میں صفائی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شکیل قادر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ سرکاری افسران عوامی مسائل کے حل کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھتے ہوئے شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کے مطابق فرائض انجام دیں۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سیکشن نے مجموعی طور پر 2 ہزار 935 ترقیاتی منصوبوں میں سے 2 ہزار 632 کا معائنہ کیا، جن میں سے 90 فیصد منصوبے مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی۔
بریفنگ کے مطابق بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (بی ایس ڈی آئی) کے تینوں مراحل کے تحت 4 ہزار 63 منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن میں سے 2 ہزار 181 منصوبوں پر مختلف مراحل میں کام جاری ہے۔
چیف سیکریٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور مقررہ مدت کے اندر معیار برقرار رکھتے ہوئے ان کی تکمیل یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
عوامی شکایات کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ اکتوبر کے دوران بلوچستان بھر میں 51 کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں شہریوں کی جانب سے 686 شکایات موصول ہوئیں۔ چیف سیکریٹری نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ شکایات پر فوری کارروائی کی جائے اور انہیں غیر ضروری تاخیر کے بغیر حل کیا جائے۔
انہوں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی باقاعدہ نگرانی کرنے، ناجائز منافع خوری کی روک تھام اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ بلدیاتی اداروں کو صفائی کی صورتحال بہتر بنانے، کوڑا کرکٹ بروقت اٹھانے اور شہری علاقوں کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں محکمہ صحت میں جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر ملازمت کرنے والے افراد کی نشاندہی، انہیں ملازمت سے برطرف کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔









