بلوچستان کے 31 ضلعی امراء کا تقرر نامہ جاری کردیا ہے ، جماعت اسلامی

47

جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ نے کہاکہ بلوچستان کے 31 ضلعی امراء کا تقرر نامہ جاری کردیا ہے جس کامقصد دیگر سیاسی ، مذہبی جماعتوں میں انٹر پارٹی انتخابات برائے نام کئے جاتے ہیں جماعت اسلامی نے ہمیشہ صاف اور شفاف جمہوری طریقے سے اپنے عہدیداروں کا انتخاب کرتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ 31 اکتوبر کو تمام امراء کی مدت ختم، یکم نومبر سے نئے امراء ذمہ داریاں سنبھالیں گے جماعت اسلامی کا پاکستان میں ایک ماہ تک الیکشن کا عمل جاری رہاہمارے الیکشن میں کہیں گروپ بندی، لڑائی یا پوسٹر بازی نہیں ہوئی جماعت کا ہر رکن امارت کا امیدوار ہے چاہے غریب ہو یا امیر ترین باقی جماعتیں جمہوریت کی بات کرتی ہیں، جمہوریت جماعت اسلامی میں ہے ۔

دیگر جماعتوں میں نہیں ایک ہی خاندان، باپ کے بعد بیٹا، بیٹے کے بعد پوتا، یہ کیسی جمہوریت ہی جماعت اسلامی میں امیر مستقل نہیں ہوتا، دستور کے تحت انتخاب ہوتا ہے ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے دستور جماعت اسلامی کے دفعہ 68 کے تحت امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن کے ساتھ مشاورت، جماعتی مصالح اور ارکان اضلاع کی تجویز کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئندہ دو سالہ مدت یکم نومبر سے 31 اکتوبر 2028ء کے لئے حافظ نور علی کوئٹہ، مولانا عبدالناصر شہاب زئی ژوب، مولانا داد اللہ ناصر لورالائی، مولانا محمد ایوب منصور جعفر آباد، بشیر احمد ماندائی نصیر آباد، مولانا محمد اسلم گزگی خضدار، مولانا لیاقت بلوچ گوادر، حافظ خالد رحمان شاہوانی مستونگ، ڈاکٹر محمد رفیق پشین برشور ، مولانا عبدالمالک رونجھا لسبیلہ، مولانا سعید اللہ خان خانوزئی کاریزات ، حافظ مطیع الرحمن نوشکی، قاری امداد اللہ چمن، غلام یاسین بلوچ کیچ، پنجگور حافظ صفی اللہ ، حافظ سمیع اللہ قلات، مولانا نور محمد ہرنائی، قادر بخش گویا بھاگ ناڑی، ارباب جتوئی کچھی بولان، قاضی نور محمد ڈومکی سبی، عزیز الرحمن لاشاری جھل مگسی، حاجی عبدالصمد کھوسہ صحبت پور، عبداللہ جمالی اوستہ محمد، مولانا مجیب الرحمن بگٹی ڈیرہ بگٹی، دوست محمد بگٹی سوئی ، حافظ منیر احمد زہری سوراب، حاجی نقیب اللہ مسلم اور فضل الرحمن ترین دکی کے امیر منتخب ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مولانا مودودیؒ نے جماعت کی بنیاد رکھی اس دور سے لیکر آج تک جماعت میں خاندان اور شخصیات نہیں بلکہ جمہوری طریقے سے تمام فیصلے ہوتے ہیں۔ مولانا مودودی کے بیٹے اور دیگر خاندان کے ہوتے ہوئے بھی کوئی امیر نہیں بن سکا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے جماعت کا کارکن اہم عہدوں تک پہنچ جاتا ہے اور محنت لگن اور مخلصی سے ملک و قوم کی خدمت کیلئے ہمہ وقت پیش پیش رہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں