بلوچستان ہائی کورٹ کا ہزارہ ٹاؤن اور ہزار گنجی میں پینے کے پانی کی عدم فراہمی کا نوٹس

30

بلوچستان ہائی کورٹ کا ہزارہ ٹاؤن اور ہزار گنجی میں پینے کے پانی کی عدم فراہمی کا نوٹس، متعلقہ حکام کو ذاتی طور پر پیش ہونے اور جامع رپورٹ جمع کرانے کا حکم چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ہزارہ ٹاؤن، کرخسہ اور ہزار گنجی میں پینے کے پانی کی فراہمی اور نجی ٹیوب ویل مالکان کی مبینہ اجارہ داری سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کی جانب سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے ریمارکس دیے کہ مذکورہ آئینی درخواست 21 ستمبر 2023ء کو دائر کی گئی تھی، تاہم عدالت کی جانب سے مختلف اوقات میں متعدد احکامات اور بار بار ہدایات جاری کیے جانے کے باوجود کوئٹہ واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی (کیو واسا) کی جانب سے تاحال خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

عدالت کے استفسار پر واسا کے ایگزیکٹو انجینئر نے مؤقف اختیار کیا کہ کرخسہ کے علاقے میں ٹیوب ویلز فعال کیے جا چکے ہیں، جبکہ 3 لاکھ اور 2 لاکھ گیلن گنجائش کے دو آبی ذخائر بھی موجود ہیں، جن کے ذریعے ان علاقوں میں پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے جہاں پائپ لائنوں کا نیٹ ورک دستیاب ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہزار گنجی کے علاقے میں 11 ٹیوب ویلز کی تنصیب کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے، تاہم بعض سرکاری اور انتظامی مسائل کے باعثَ۔

کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے اہلکاروں کو پولیس کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔

اب واسا کے حق میں این او سی جاری ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ باقی ضروری کام آئندہ پانچ سے چھ ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے علاقہ مکینوں، بالخصوص ہزارہ ٹاؤن کے رہائشیوں کی جانب سے واسا کے مؤقف کی تردید کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ علاقے کے مکینوں کو تاحال پینے کے پانی کی مناسب سہولت میسر نہیں اور نجی ٹیوب ویل مالکان مبینہ طور پر پانی کی فراہمی پر اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں