وزیراعلیٰ پنجاب نےکرپشن کی شکایت پر ’مثالی گاؤں‘ پروجیکٹ بند کردیا، اینٹی کرپشن کو تحقیقات کا حکم

35

40 ارب روپے کی لاگت سے پنجاب کے800 دیہاتوں کو مثالی گاؤں بنانے پروجیکٹ کے تحت ترقیاقی کام کروانا تھے جس میں ابتدائی طور پر400 دیہاتوں کو شامل کیا گیا جہاں ترقیاتی کاموں کے لئے چار ارب سے زائد رقم جاری کی گئی تھی۔

سرگودھا ڈویژن کے دیہاتوں میں ترقیاتی کاموں کو شروع کروایا گیا اور اسکے لئے باقاعدہ ٹینڈرز مانگے گے لیکن ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بااثر افسران وسیاسی گٹھ جوڑ سے پارٹنر شپ کی بنیاد پر جعلی کمپنیاں رجسٹرڈ کروائیں گئیں، مبینہ طور پر میرٹ کی بجائے ملی بھگت سے کام بھی حاصل کیے گئے اور ترقیاتی کاموں کے عوض ساڈھے تین ارب روپے بھی کنٹریکٹرز کو ادا کردیے گئے۔

وزیراعلی پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں مثالی گاؤں میں کرپشن شکایات پر متعلقہ افسران سے رپورٹ مانگی تھی جس میں انکشاف ہوا کہ سرگودھا ڈویژن میں مثالی گاؤں پروجیکٹ میں 65فیصد سے زائد کام موقع پر ہوئے ہی نہیں اور رقم ادا کردی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں