روس نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اصولی آمادگی ظاہر کردی ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اعلیٰ معاون یوری اوشاکوف نے یہ بیان سینٹ پیٹرزبرگ میں پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی ملاقات کے بعد دیا۔
اوشاکوف کے مطابق مذاکرات کا نیا دور آئندہ ماہ منعقد ہوسکتا ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور ان کے یورپی اتحادی کئی ماہ سے ماسکو پر فروری میں معطل ہونے والے مذاکرات فوری طور پر بحال کرنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔
دوسری جانب روس کئی ماہ سے مذاکرات سے گریز کرتا رہا ہے، کیونکہ اس کا خیال ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں پیش قدمی کر رہا ہے، جبکہ یوکرین کو روس کے میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
وٹکوف پیر کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں زیلنسکی کے علاوہ ناروے اور فن لینڈ کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد سینٹ پیٹرزبرگ پہنچے تھے۔
یہ واضح نہیں کہ وٹکوف صدر پیوٹن کے لیے کون سی مخصوص تجاویز لے کر آئے تھے، تاہم زیلنسکی نے اوسلو میں مذاکرات کے بعد بتایا تھا کہ یوکرین کے لیے مضبوط سکیورٹی ضمانتوں اور توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کی تجاویز پر بات ہوئی۔
اوشاکوف نے ان تجاویز کو زیادہ مفید قرار نہیں دیا۔
بدھ کو سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اوشاکوف نے اشارہ دیا کہ مذاکرات کا نیا دور تقریباً 10 نومبر کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں ہوسکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کا محور تنازع کے خاتمے کے بعد روس اور یوکرین کے لیے سکیورٹی نظام کی تشکیل ہونا چاہیے۔
بعد ازاں ایک امریکی عہدیدار نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، جو مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، نے منگل کو اوسلو میں ہونے والی بات چیت کے دوران امریکا، روس اور یوکرین کے درمیان تکنیکی سطح پر سہ فریقی اجلاس کی تجویز پیش کی تھی۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے عہدیدار کے مطابق یوکرین نے گزشتہ روز اوسلو میں اس تجویز کو قبول کرلیا تھا، جبکہ روس نے آج سینٹ پیٹرزبرگ میں اسے تسلیم کرلیا۔
اوشاکوف نے مزید بتایا کہ صدر پیوٹن نے وٹکوف سے ملاقات کے دوران ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ روسی فوج وسیع محاذ پر ہر جگہ پیش قدمی کر رہی ہے اور اسے اسٹریٹجک برتری حاصل ہے۔
واضح رہے کہ روس، یوکرین اور امریکا کے اعلیٰ حکام جنگ کے خاتمے کے لیے اب تک مذاکرات کے کئی دور کرچکے ہیں۔ یہ جنگ فروری 2022 میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب پیوٹن نے یوکرین پر مکمل حملے کا حکم دیا تھا۔
روس نے گزشتہ ماہ ہونے والے اپنے عام انتخابات کے دوران یوکرین کے بڑے پیمانے پر حملوں کو مذاکرات میں تعطل کا سبب قرار دیا۔
دوسری جانب بدھ کو زیلنسکی نے کہا کہ وہ ایسے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جس کے تحت موجودہ محاذِ جنگ کی حدود پر لڑائی روک دی جائے اور جنگ رک جائے۔









