ملک بھر میں دکانداروں کی جانب سے ایل پی جی، آٹا، دالوں، مرغی، گوشت اور دودھ کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا گیا، جس کے باعث شہریوں کو روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش کی خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ سمیت بیشتر شہروں میں ایل پی جی کی قیمت 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی، جبکہ گھریلو سلنڈر کی قیمت 7 ہزار روپے تک ہوگئی ہے۔
لاہور میں ایل پی جی کی سرکاری قیمت 280 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم دکاندار اسے من مانے نرخوں پر ساڑھے 500 روپے فی کلو تک فروخت کررہے ہیں۔کراچی میں مرغی کی قیمت ساڑھے 700 روپے فی کلو تک پہنچ گئی، جبکہ کراچی اور لاہور میں گندم کا آٹا 190 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے۔
کوئٹہ میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 3 ہزار 330 روپے ہوگئی ہے۔بلوچستان بھر میں گندم کا بحران بھی سنگین ہوگیا ہے۔
خضدار، چاغی، واشک، کیچ اور دیگر اضلاع میں 50 کلو آٹے کی بوری کی قیمت 8 ہزار روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔صوبائی کابینہ کی منظوری کے باوجود گندم کی خریداری تاحال شروع نہیں ہوسکی۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے 5 لاکھ 75 ہزار بوریاں گندم خریدنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اب تک ایک لاکھ بوری بھی نہیں خریدی جاسکی۔دوسری جانب کوئٹہ میں سبزیوں، گوشت اور دودھ کی قیمتوں میں بھی 20، 20 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے، جس سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔









