صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو، وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان ،کائونٹر ٹیرارزم پالیسی اور صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے 18 نئے قوانین منظور اور 17 نئے ادارے وشعبے قائم کرکے دہشت گردی کے خلاف 14 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کرتے ہوئے 60 ہزار آپریشن کرکے 1100 دہشت گردوں کو ہلاک کرکے 450 کو گرفتار کیا ان کارروائیوں میں اس سال 101 پولیس کے جوان شہید ہوئے جبکہ سیکورٹی فورسز کی 551 جوان شہید ہوئے ہیں کوئٹہ رکھنی شاہراہ پر سفر کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے گے ہیں کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ تفتان شاہراہ پر آئندہ 3 سے 4 ماہ میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوگی۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے منگل کو سکندر آڈیٹوریم ہال میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کے خلاف متعدد عملی اقدامات کرتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان، کاؤنٹر ٹیررازم پالیسی اور صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد کو ممکن بنایا ہے جبکہ دہشت گردی کے تدارک کے لیے 18 نئے قوانین منظور کیے اور 17 نئے ادارے و شعبے قائم کیے ہیں۔
جن کی بدولت حالات اور چیزوں کو بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے جس میں ڈٹینشن سینٹر کا عمل بھی وجود میں لایا گیاہے یہاں پر 90 لوگوں کو رکھا گیا ہے جن کے کائونٹر ٹیرارزم کے حوالے سے جے آئی ٹی بنائی گئی ہے جو تحقیقات کررہی ہے اور اس میں تقریباً 500 کیسز عدالت میں بھیجے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں فیس لیس عدالتیں قائم کی گئی ہیں، جبکہ سیف سٹی منصوبے، فرانزک ایجنسی، ڈرون یونٹ ،ایکسیلینس سینٹر کا قیام ، کوئٹہ سکیورٹی بورڈ، جدید کیمروں کی تنصیب اور شاہراہوں کی سکیورٹی کو بہتر بنانے سمیت کئی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
جن کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے بعد بہتر ثمرات حاصل ہوں گے۔ حمزہ شفقات کے مطابق دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر 14 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور گزشتہ 2 سالوں میں غیر قانونی مقیم 11 لاکھ افغان باشندوں کو واپس بھیجا ہے ۔ اس کے علاوہ 9 سیف سٹیز کے علاوہ ماڈرن سٹیز بھی بنارہے ہیں کوئٹہ اور گوادر سیف سٹی کو بھی بہتر بناتے ہوئے مزید 4 ہزار کیمروں کی تنصیب کی جارہی ہے انہوں نے بتایا کہ اس سال 60 ہزار سے زائد مختلف نوعیت کے سکیورٹی آپریشنز بھی کیے جا چکے ہیں۔
جن میں تقریباً 1100 دہشت گردوں کو ہلاک کرکے 450 کو گرفتار کیا ہے اس کے علاوہ کارروائیوں میں اب تک 551 جوانوں سمیت 101 پولیس کے جوانوں نے اس سال شہادت کا رتبہ پایاہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان آپریشنز میں ایف سی نارتھ اور سی ٹی ڈی نے وسیع پیمانے پر آپریشن کئے ہیں سی ٹی ڈی نے 250 دہشت گردوں کو گرفتار کیا اور 250 کو مارا ہے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ رکھنی شاہراہ کو سفرکیلئے محفوظ بنایا ہے گزشتہ کچھ عرصے سے مسافر گاڑیوں پر دہشت گردانہ واقعات میں کمی آئی ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ تین سے چار ماہ کے دوران کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ تفتان شاہراہوں کی سکیورٹی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بلوچستان کا موازنہ کے پی سے کیا جا رہا ہے اور بعض سیاسی رہنماؤں، جن میں مولانا فضل الرحمٰن بھی شامل ہیں، جن کی جانب سے بلوچستان میں بھی ایمرجنسی کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال سے متعلق حکومتی اقدامات سے عوام کو آگاہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف منظور ہونے والے تمام قوانین کو کابینہ اور صوبائی اسمبلی دونوں کی منظوری حاصل ہے۔اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر قانون سازی کو یقینی بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے کبھی ایسے اقدامات یا مارچ کی سیاست نہیں کی جس سے انتظامی معاملات متاثر ہوں۔
اس موقع پر وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے مشیر کھیل مینا مجید کے بھائی کے اغوا کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور مغوی کی بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اور ایمرجنسی کے معاملے پر بلوچستان کا خیبرپختونخوا سے موازنہ کرنا درست نہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل میں انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان اس بیان کی سخت مذمت کرتی ہے، قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔
شہداء اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو متنازعہ بنانا مناسب نہیں،موجودہ حالات میں ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جن علاقوں میں عوام کی حفاظت کیلئے آپریشن کرنے کے شور پارود میں مکین 5 ہزار خاندانوں پر مشتمل 30 ہزار نفوس کو محفوظ مقام اور حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی رہائشی سہولت میں منتقل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور لوگوں کے لئے کھانے پینے کا سامان ، رہنے کیلئے ٹینٹ اور وسائل فراہم کئے گئے ہیں اور لوگوں کو رضا کارانہ طور پر علاقے سے نقل مکانی کے لئے وقت دیا گیا تھا۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 14 اگست پر دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنایا گیا چاغی سے لایا جانے والا اسلحہ جس میں امریکن ساختہ جدید اسلحہ موجود تھاا سکو تحویل میں لیا گیا انہوں نے کہاکہ دنیا بھرمیں دہشت گردانہ واقعات سے نمٹنے کیلئے ریاست اور حکومت سخت اقدامات اٹھاتی ہے اسی لئے حکومت بھی عوام کے جان و مال کے تحفظ کو محفوظ بنانے کے لئے اس طرح کے اقدامات کررہی ہے ایک اور سوال کے جواب میں شاہد رند نے کہا کہ جو اقدامات آج اٹھائے ہیں یہ 25 سال قبل اٹھانے کی ضرورت ہے اس وقت ملک بھر میں یوریا کھاد کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں استعمال ہونے کی مفصل رپورٹس پر پابندی لگائی گئی ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ چمن سے 10 ہزار ڈیٹونیٹر سیکورٹی فورسز نے پکڑے ہیں جو یوریا کے ساتھ ملاکر دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہونے تھے یہ ڈیٹو نیٹر مائنز بلاسٹنگ کے نام پر نکالے گئے تھے اس لے حکومت اور متعلقہ اداروں نے اس حوالے سے سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ بارڈروں کی بندش کے حوالے سے کہا کہ حکومت تمام اقدامات ملکی مفاد کو مد نظر رکھ کر اٹھارہی ہے تجارتی سرگرمیاں عارضی طور پر بند ہے جن کو صوبائی اور وفاقی حکومت مختلف فورمز پر اٹھارہی ہی









