جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد، سیٹھ اجمل بازئی، میر حشمت لہڑی، مفتی رضا خان، حاجی ظفراللہ کاکڑ، میر سرفراز شاہوانی، سالار مولانا علی جان، مولانا سید سعداللہ آغا اور مولانا نقیب اللہ ملاخیل نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی صورتحال بڑھتے ہوئے جرائم اور عوام کے جان و مال کے عدم تحفظ کے خلاف 9 اکتوبر کو بھرپور احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔
اس سلسلے میں 9 اکتوبر کو سہ پہر 3 بجے جناح روڈ سے عظیم الشان امن ریلی نکالی جائے گی۔ عوام ریلی میں بھرپور شرکت کریں۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے عوام کو جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا جمعیت علمائ اسلام عوام کے دکھ درد میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔ شہر میں چوری، ڈکیتی، قتل و غارت گری، منشیات فروشی، فحاشی و عریانی اور دیگر جرائم میں مسلسل اضافے نے شہریوں میں شدید خوف و تشویش پیدا کردی ہے انہوں نے کہا کہ حکومتی عدم توجہی انتظامی غفلت اور عملی کارروائی کے فقدان نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
گلی کوچوں میں جرائم پیشہ عناصر کا آزادانہ دندناتے پھرنا ریاستی رٹ اور قانون کی عملداری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ منشیات فروشی اور دیگر جرائم کے اڈے کیا حکومت اور انتظامیہ کو دکھائی نہیں دیتی اگر یہ سب کچھ حکومتی اور انتظامی اداروں کی نظروں کے سامنے ہورہا ہے تو پھر کارروائی کیوں نہیں کی جارہی کوئٹہ میں جرائم کے مراکز کھلے عام قائم رہیں اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہے یہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ عوام کو محض بیانات اور دعووں سے مطمئن کرنے کے بجائے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور فوری کارروائی کریں۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے جس میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امن و امان کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ میں جرائم کے تمام مراکز کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے منشیات فروشوں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور کوئٹہ کو جرائم کی آماجگاہ بنانے کے بجائے حقیقی معنوں میں امن کا گہوارہ بنانے کے لیے ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جائیں۔









